٭۔ ۔ ۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرہ پر ووٹ حاصل کرنے کا دعوی کرنے والے جان لیں آزاد عدلیہ کے بغیر اس نعرہ پر بھی عمل نہیں ہو سکتا
٭۔ ۔ ۔ بھوکی قوم پر وزیر وں کی فوج ظفر موج لاد دی گئی، بڑی کابینہ میں اخراجات پورے کرنے کے لئے آئی ایم ایف سے بھیک مانگی جا رہی ہے، کابینہ میں توسیع کر کے حکومت نے شوکت عزیز کابینہ کی یاد تازہ کر دی ۔ قاضی حسین احمد
لاہور۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے 3نومبر کے سیاہ اقدام کے خلاف وکلابرادری، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کے بھرپور احتجاج پر انھیں مبارکباد دی ہے، اور کہا ہے کہ اس احتجاج سے حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہییں اور وکلا کے مطالبات کو فوری تسلیم کرتے ہوئے چیف جسٹس سمیت جبری معزول کیے گئے تمام ججوں کو بحال کر دینا چاہیے۔منصورہ سے جاری کردہ اپنے بیان میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی تحریک افتخار محمد چوہدری کی بحالی تک جاری رہے گی،اور اس میں مزید تیزی آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے حکومت اب تک ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ہے اور اب چیف جسٹس کو بحال کرنے سے انکا ر کر دیا گیاہے لیکن وکلا اور قوم چیف جسٹس کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ججوں کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے کہاتھا کہ انھیں روٹی کپڑے مکان کے لیے ووٹ ملے ہیں لیکن عوام ان چیزوں کو ترس گئے ہیںاور ثابت ہوگیا ہے کہ جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوگی ، عوام کو روٹی کپڑا مکان نہیں ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکمران این آراوا ور اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے افتخار چوہدری کو بحال نہیں کررہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ حکومتی اداروں میں کرپشن اور کمیشن میں تیزی آئی ہے،اور اسی وجہ سے انصاف پسند معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جارہا۔انھوں نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ نہ ہونے کی وجہ سے معیشت کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے ، روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہورہاہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ حکمران عوام کے مسائل حل کرنے میں مخلص ہیںتو پرویز مشرف کے 3نومبر کے اقدام کو کالعدم قرار دیں اور افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کو فوری طورپر بحال کریں۔دریں اثنا قاضی حسین احمد نے وفاقی کابینہ میں 40 وزراء کے اضافے کو قرضوں کے بوجھ تلے دبے عوام اور معیشت پر بوجھ قرار دیا ہے اور کہاہے کہ خزانہ خالی ہے ، ملک کے ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہاہے ، اشیائے ضرورت میسرنہیں ہیں ، صنعتیں بند ہو رہی ہیں ، کاروبار ٹھپ ہو رہاہے ، لوگ بجلی ، گیس اور آٹے کو ترس رہے ہیں لیکن بھوکی قوم پر وزیروں کی فوج ظفر موج لا د دی گئی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اتنی بڑی کابینہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بھیک مانگی جارہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ قرضوں سے غریب عوام کو کچھ نہیں ملے گا ۔ قرضہ یا تو وزرا اور بیوروکریسی کی جیبوں میں چلا جائے گا یا ان کے اللوں تللوں پر خرچ ہو گا ۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کر کے حکومت نے شوکت عزیز کابینہ کی یا د تازہ کر دی گئی ہے اور سابقہ حکومت کی روایات اور غلط پالیسیاں اپنا کر عوام میں غم و غصہ پیدا کیا جارہاہے













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment