٭۔ ۔ ۔ این آر او کے تحت حکومتی عناصر نے لوٹے ہوئے 400 ارب ڈالر معاف کروائے، امریکہ سے اتحاد ختم اور نیٹو کی سپلائی لائن بند کی جائے
٭۔ ۔ ۔ آئی ایم ایف سے بچا جائے اور مالی بحران سے نکلنے کیلئے قومی دولت وطن واپس لائی جائے اور پہل آصف علی زرداری کریں، مالیاتی سکینڈل میں ملوث سیاستدانوں و بیورو کریٹس کے نام بتائے جائیں
لاہور ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا چیلنج قبول کرتے ہیں اگر پیپلز پارٹی اقتدار چھوڑے اور فوج مداخلت نہ کرے اور ملک کا نظم و نسق ہمارے حوالے کیا جائے تو ہم موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ان بحرانوں کو حل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ این آر او کے تحت حکمرانوں نے اپنے لوٹے ہوئے 400 ارب معاف کروائے اگر این آر او نہ آتا تو ملک کو اتنے بڑے مالی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند اور دہشت گرد اتحاد سے نکلنے کا بھی فوری مطالبہ کیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے وقفہ کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو پارلیمنٹ میں بیان دیا ہے کہ اگر کوئی موجودہ بحرانوں کو حل کرے تو میں اقتدار چھوڑنے کیلئے تیار ہوں میں اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان، مہمند ایجنسی، باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن فی الفور بند کیا جائے ۔ حکومت دہشت گردی اتحاد سے باہر نکلنے اور نیٹو کی سپلائی لائن ختم کرنے کا اعلان کرے اور سیاستدانوں، سرمایہ داروں اور دیگر اہم شخصیات کی بیرون ملک سے دولت کو واپس پاکستان لایاجائے اور سب سے پہلے آصف علی زرداری اپنا پیسہ واپس لانے کا اعلان کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو توڑنے کی اندرونی اور بیرونی سازشیں عروج پر ہیں ۔ 1940 ء کی قرار داد کی آڑ میں کہا جارہا ہے کہ اس میں کہیں پاکستان کا نام نہ تھا بلکہ مسلم سٹیٹ بنانے کی بات کی گئی تھی اس طرح سے پاکستان کی نفی کی جارہی ہے ۔ یہ لوگ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں، صوبہ سرحد میں گریٹر پختونستان کے ہولڈنگ بورڈ لگائے جارہے ہیں جنہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی تقویت دے رہی ہے ۔ باجوڑ اور وزیرستان کے بعد مہمند ایجنسی سے بھی لوگوں نے بڑے پیمانے پر منتقلی شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام قبائلی علاقے خالی ہو گئے تو امریکی یا نیٹو فوج کی مزاحمت کون کر یگا ۔ ہماری اپنی فوج وہاں سے لوگوں کو منتقل ہونے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف جو ایک مگر مچھ ہے سے بچا جائے اور اس سے قرضے لینے کی بجائے ملکی وسائل پر انحصار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پانی کی دستیابی کا بھی اہم مسئلہ درپیشہ ہے اور خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ بھارت پانی بند کر کے پنجاب اور سندھ کو ریگستان بنادے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت کو یہ کام کرنے سے مجاہدین نے روکا اور مستقبل میں بھی کشمیر ی مجاہدین کے ذریعے بھارت کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ پراپیگندہ ختم ہونا چاہیئے کہ ہم امریکہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی دہش تگرد موجود نہیں ہے اور امریکہ ہمارے ملک کو توڑنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو اس وقت دو بڑے چیلنج درپیش ہیں جن میں ایک بلوچستان کے زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کو سردی کے موسم میں ویدر پروف، ٹینٹوں اور دیگر سامان کی فراہمی اور دوسرا چیلنج قبائلی علاقوں سے پنجاب اور سندھ سمیت مختلف ملک کے مختلف علاقوں میں منتقل ہونے والے لاکھوں لوگوں کی رہائش کا بندوست کرنا ہے ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ کے اس اجلاس کا مقصد جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع کے فالو اپ کے طور پر کارکنوں کو مستقبل کا ٹاسک دینا ہے تاکہ پریشان حال قوم کو مایوسیوں سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ ملک کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹوٹے ہوئے ملک میں جو کچھ لوٹا جا سکتا ہے لوٹ لو ۔ 22 ویں گریڈ کے افسران جو پہلے ہی 2`2 پلاٹ لے چکے ہیں اب ہر 22 گریڈ کے افسر کیلئے 1پلاٹ کا حصول استحقاق ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کی وجہ سے کسی بھی سیاستدان یا رکن اسمبلی کے خلاف قومی اسمبلی کی کمیٹی سے اجازت لئے بغیر تفتیش نہیں کی جا سکتی اور یہ سب کچھ ملی بھگت سے کیا جارہا ہے ۔ اصل مقصد نیوکلیئر پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملک کے بدترین مالیاتی سکینڈل میں ملوث حکومتی عناصر اور بیورو کریٹس کے نام منظر عام پر لائے جائیں ۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment