کراچی کے بگڑتے حالات کی ذمہ دار ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں
فاٹااورسوات میں فوجی آپریشن فوری طور پرروک کر امریکہ و نیٹو کی سپلائی بند کی جائے ورنہ کراچی تاخیبر عوامی مظاہروں کی کال دیںگے
لاہور ۔ میر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ افغان بارڈر پرپاک امریکہ مشترکہ فوجی آپریشن شرمناک ہے، واضح ہوگیا کہ حکومت اور فوج اپنی قوم کے خلاف امریکی جنگ لڑرہی ہیں۔ فاٹااورسوات میںفوجی آپریشن فوری طور پرروک دیا جائے اورامریکہ و نیٹو کی سپلائی بند کی جائے ورنہ کراچی تاخیبر عوامی مظاہروں کی کال دیںگے،اور سپلائی لائن پررکاوٹیں کھڑی کر دیں گے۔ وزیر اعظم نے ناکامی کا اعتراف کرلیا ،حکومت مستعفی ہوجائے اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔اگلے الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے۔صدراور وزیر اعظم کا لہجہ خودمختاراور آزاد ملک کے سربراہان جیسانہیں ہے۔امریکہ کو آقااورامریکی سفیراور کمانڈرز کو وائسرائے تسلیم کرچکے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے ملک کی معاشی صورتحال درست نہیں ہوگی۔ حکمران اپنے بیرونی اکاؤنٹس ملک کے اندر منتقل کریں۔ کراچی میں صورتحال کو بگاڑا جارہاہے، ایم کیوایم اور اے این پی دونوںاس میں شریک ہیں۔فاٹا میںرٹ قائم کرنے والی حکومت کی قلعی کراچی میں چینلز کی بندش کی صورت میں کھل گئی ہے۔ افراتفری پھیلانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے بلاجواز اور بغیر کسی ضرورت کے حساس مسائل کوچھیڑا جارہاہے۔ سفارتکاروںکو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی سید منورحسن،قائم مقام سیکرٹری اطلاعات محمد انور نیازی اور ڈائریکٹر امورخارجہ عبدالغفارعزیز ان کے ہمراہ موجودتھے۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے خود اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، اور کہاہے کہ میرے بس میں نہیں ہے، کوئی اورنظام حکومت سنبھال سکتا ہے توسنبھال لے۔یہ اعتراف شکست ہے۔ اس کے بعد ان کو مستعفی ہوجاناچاہیے،اور صدر کو ایڈوائس دینی چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ توڑ کرنئے انتخابات کرائیں۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں کسی پارٹی کو واضح مینڈیٹ نہیں ملا،اور پارلیمنٹ میں موجود پارٹیاں آپس میں متفق نہیں ہیں۔پنجاب،سرحد اور سندھ میںاختیارات کی کشمکش جاری ہے،خود مرکز میں کشمکش چل رہی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیے جارہے ہیںاور حکومتیں چل نہیں رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے پاس کسی کو اقتدار منتقل کرنے کا اختیار نہیں ہے،اس کے لیے آئینی راستہ یہی ہے کہ وہ صدر کونئے انتخابات کے لیے کہیں۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملک کا استحکام اور سا لمیت خطرے میںہے،حالات ہاتھ سے نکلے جارہے ہیں،لوگوں کو مایوسی کے غار میں دھکیلا جارہاہے۔ایسا لگتا ہے کہ ملک توڑنے کی سازش میں حکمران اور اسٹیبلشمنٹ شریک ہیں۔ فاٹا،سوات اور صوبہ سرحد میں مسلسل حالات کو خراب کیا جارہاہے۔بلوچستان کی حالت پہلے ہی خراب ہے۔کراچی میں مہاجرپختون فسادکرانے کی سازش کی جارہی ہے۔ ملک میں معاشی بحران ہے،حکمران بیرونی اکاؤنٹس ملک میں منتقل کرنے کے بجائے قوم کوآئی ایم ایف کے چنگل میں دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک کے استحکام و سا لمیت اور اس کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم مطالبہ کریں کہ حکومت مستعفی ہو اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پاس کی تھی کہ فوجی آپریشن ختم کرکے مذکرات اور ڈیویلپمنٹ کے ذریعے مسائل حل کیے جائیںلیکن افغان بارڈر پر پاک فوج نے امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی آپریشن شروع کردیا ہے، جوپاکستانی فوج اور حکومت کے دعووں کے بالکل منافی ہے۔واضح ہوگیا ہے کہ حکومت اور فوج امریکی جنگ لڑرہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ امریکی پیشگی اطلاع کریں گے تو شکر گذار ہوں گے۔ یہ ایک خودمختاراور آزاد ملک کے سربراہ کا لہجہ نہیں ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسے کوئی ماتحت اپنے وائسرائے اور آقا سے درخواست کررہاہو۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی وزیرستان،باجوڑ، سوات، درہ آدم خیل میں جاری کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے،اور اب مہمند ایجنسی میں شدید بمباری شروع کردی گئی ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعما ل کیا جارہا ہے۔ سوات میں گن شپ ہیلی کاپٹرز اوربھاری توپوں کا استعمال ہورہاہے،اور لوگوں کی عمربھر کی کمائی سے تعمیرہونے والے مکانات کو مسمار کیا جارہاہے۔ معصوم اور بے گناہ لوگ قتل ہورہے ہیں۔ شدید سردی کے موسم میں ’ آئی ڈی پی‘(اندرون ملک مہاجرین)کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے،خانماں بربادبچے اور خواتین کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔خوراک کا سامان اورادویات نہیں ہیں۔ قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ فوجی آپریشن فوری طور پر روک دیا جائے۔ اور امریکہ اور نیٹو فورسز کو سپلائی بند کردی جائے۔ اگرآپریشن نہیں روکا جائے گا اور سپلائی جاری رہے گی توہم پورے ملک میں عوامی مظاہروں کی کال دیں گے،ہرطبقے کے لوگوں کو اس میں شرکت کی دعوت دیں گے۔ اور لوگوں سے اپیل کریں گے کہ کراچی سے خیبر تک نیٹو فروسز کی سپلائی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment