پاکستان اور افغانستان کی دہشت گردی کیخلاف مشترکہ کوششیں خطے میں امن و استحکام کا باعث بنیں گی ۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کی کابل میں پریس کانفرنس
اغواء کاروں نے کینیڈین صحافی میلیسا فنگ کو رہا کردیا ۔ سفارتخانہ میں منتقل کردیا گیا
کابل ۔ امریکا کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باؤچر نے واضح کیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں پاکستان اور افغانستان سر فہرست ہوں گے۔پاکستان اور افغانستان کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں خطے میں امن واستحکام کا باعث بنیں گی ۔ کابل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ نو منتخب صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان اور افغانستان اولین ترجیح ہوں گے،اوباما کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے موثر کارروائی نہ کی تو پاک افغان سرحد پر القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔رچرڈ باؤچر نے توقع ظاہر کی کہ نئی امریکی حکومت افغانستان میں ڈو مور کی پالیسی پر گامزن رہے گی ۔رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں علاقے میں امن و استحکام کا باعث بنیں گی ۔ رچرڈ باؤچر نے مزید کہا کہ اگرچہ افغانستان نے مختلف شعبوں میں کچھ سالوں سے ترقی کی ہے لیکن ملک میں انتہا پسندوں کی موجودگی کا بڑا مسئلہ ہے ۔ افغانستان میں ریلیف تنظیموں کے کارکنوں پر حملے اور اغوا کے واقعات نے حالات کو مزید خراب کردیا ہے افغانستان کے دورے کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ نے کابل میںپاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات کی انہوں نے کہا کہ قبائلی ایجنسی باجور میں ملٹری آپریشن جاری ہے ۔ پاکستانی فوج نے واضح طورپر کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے ۔ جب امریکی نائب وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ ملٹری آپریشن کب تک رہے گا تو امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ صرف پاکستان اور افغانستان کی مدد کرنا چاہتا ہے دونوں ملکوں کو سرحدی علاقے سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہو گا ۔ باؤچر نے کہا کہ میں عسکری ماہر نہیں ہوں لیکن پاکستان اور افغانستان کو مل کر تمام خطرات سے نبٹنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں پاکستان کے حکمرانون کو بخوبی علم ہے کہ انتہا پسندوں سے پاکستان کو براہ راست خطرہ ہے ۔ باؤچر نے کہا کہ اگرچہ افغانستان نے کچھ شعبوں میں ترقی کی ہے لیکن انتہا پسندوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے باؤچر نے زور دیا ہے کہ افغانستان میں امدادی تنظیموں کے ورکروں پر حملے اور ان کے اغواء نے ملک کی صورت حال کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ اغواء اور حملے ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ دوسری جانب کابل میں اغوا کاروں نے کینیڈین صحافی میلیسا فنگ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد میلیسا فنگ کو کینیڈین سفارتخانے منتقل کر دیا گیا ۔میلیسا کو بارہ اکتوبر کو اغوا کیا گیا تھا ،اغوا کاروں نے تاوان سمیت کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment