پارلیمنٹ کی آزادی اور اسے مضبوط کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن آمرانہ دور کے مترادف صدارتی آرڈینینس جاری کیا گیا ہے۔۔۔منیر اے ملک
سیاست دانوں کو دوسرے ممالک سے امداد مانگنے کے بجائے اپنے ملک میں ذاتی سرمایہ لانا چاہئے ۔۔۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت وکلاء ہنماؤں کا جنرل باڈی اجلاس سے خطاب
کراچی ۔سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس(ر) رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ 5 نومبر2007ء کو سندھ ہائیکورٹ کی مقدس عمارت کا تقدس پامال کیا گیا تھا جبکہ وکلاء یہاں صرف سابق صدر پرویز مشرف کے 3 نومبر کو اٹھائے جانیوالے غیر قانونی اقدامات کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کے اقدامات کو تمام سیاسی جماعتوں نے مارشل لاء شمار کیا تھا جبکہ حکومت کی جانب سے انہیں ایمرجنسی پلس کا نام دیا گیا اور ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اب اس دن کو سرکاری سطح پر یوم سیاہ منانا چاہئے تھا۔حکومت ایک جانب تو ضیاء دور کی باقیات ختم کرنے کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب 3 نومبر کے اقدامات کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور یہ مشرف کی باقیات کی سرپرستی کے مساوی ہے۔انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کے اقدامات عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پر کاری ضرب تھی۔اس دن معزز عدالتوں کے ججز کو پابند سلاسل کیا گیا اور میڈیا پر پابندی لگائی گئی جبکہ جواز یہ دیا گیا کہ عدلیہ اور میڈیا دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ کا باعث ہیں حالانکہ میڈیا کا دہشت گردی سے کیا تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ 3 نومبر کے اقدامات کا مقصد ملک سے آزاد اور خودمختار عدلیہ کے تصور کا خاتمہ تھا لیکن کالا کوٹ آمر کے ان عزائم میں رکاوٹ بن گیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد حکمرانوں نے آمروں کی طرح آرڈیننس جاری کیا ہے تاکہ وکلاء کو نشانہ بنایا جاسکے۔گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ وہ کالے کوٹ والوں سے نمٹنا جانتے ہیں۔ہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ یہی الفاظ مشرف نے بھی استعمال کئے تھے اور اپنے آقا کا حشر آپ کے سامنے ہے۔انہوں نے عدالتی کامیاب بائیکاٹ پر وکلاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جب تک افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر بحال نہیں ہوجاتے ہیںاس وقت وکلاء تحریک جاری رہیگی۔جنرل باڈی اجلاس سے خطاب میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور سرگرم وکیل رہنما منیر اے ملک نے کہا ہے کہ حکمراں پارلیمنٹ کی آزادی اور اسے مضبوط کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن آمرانہ دور کے مترادف صدارتی آرڈینینس جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق بار کونسل ایکٹ میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئی ہیں جن کا مقصد سرگرم وکلاء کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ آرڈینینس وکلاء کے خلاف نیا چیلنج ہے۔علی احمد کرد کو سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں ہروانے کی حکومتی عہدیداروں نے بڑی کوششیں کیں لیکن وکلاء نے اپنے نمائندے کو کامیاب کرایا ہے۔عدلیہ کی آزادی کا پہلا قدم بار کی آزادی ہے۔بار ایسوسی ایشنز جب تک حکومتی اثر سے آزاد نہیں ہوں گی تب تک آزاد عدلیہ کا تصور ممکن نہیں ہے۔انہوں نے وکلاء سے کہا کہ حق کی فتح ہوگی اور وکلاء صفوں میں اتحاد رکھیں۔جنرل باڈی اجلاس سے کراچی بار کے صدر محمود الحسن نے کہا کہ حکمرانوں نے کشکول توڑ کر بھیک مانگنے کیلئے دیگ اٹھائی ہے اور سعودیہ عرب کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔سیاست دانوں کو دوسرے ممالک سے امداد مانگنے کے بجائے اپنے ملک میں ذاتی سرمایہ لانا چاہئے تاکہ ملکی اقتصادیات کو سنبھالا جاسکے۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment