اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔منگل کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس سائر علی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محمد اسلم خاکی ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران محمد اسلم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ سرا ہمارے معاشرے میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو زندگی کی کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے والدین انہیں گھروں سے نکال دیتے ہیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سرا ملک کے شہری ہیں ان کو بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔یہ ملک کے شہری ہیں ان کے تمام شعبوں میں حقوق ہیں والدین اور حکومت انہیں سڑکوں پر ڈانس کر نے کے لئے نہ چھوڑیں عدالت نے خواجہ سرا سے استفسار کیا کہ ان کے والدین ان سے محبت کیوں نہیں کرتے جس کے جواب میں خواجہ سرا کا کہنا تھا کہ ہماری مائیں اور بہنیں ہم سے محبت کرتی ہیں لیکن باپ اور بھائی اچھا نہیں سمجھتے اس لئے ہمیں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے ہم سے گرو اور غنڈے بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں شناختی کارڈ کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں اگر عام انسانوں کو ہم سے شکوہ ہے تو وہ خدا سے پوچھیں کہ ہمیں کیوں پیدا کیا ہم بھی باعزت شہریوں کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں اس موقع پر اسلم خاکی ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی۔ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن اور ان کو در پیش مسائل کے حوالے سے تحقیقات کرے ۔اسلم خاکی نے عدالت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں عدالت نے حکومت کو ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان ویلفیئر سٹیٹ ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ان شہریوں کو جائز مقام دلانے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ،بیت المال یا صوبائی انکم سپورٹ کے دوسرے پروگرامات کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے یا ان کو باعزت روز گار فراہم کیا جائے تا کہ آہستہ آہستہ معاشی بحالی سے ان کے مسائل کم ہو سکیں ۔عدالت نے ہدایت کی کہ اس عدالتی فیصلے کی نقول وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فراہم کی جائیں عدالت نے صوبائی حکومتوں کو خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کے بارے میں تفصیلی رپورٹس میں عدالت عظمیٰ میں جمع کر انے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ صوبائی سیکرٹری برائے سماجی بہبود ان کی رجسٹریشن کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے ۔عدالت نے خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو نی چاہیے۔عدالت نے چاروں صوبائی سماجی بہبود کے سیکرٹریز سے خواجہ سراؤں کی بہبود کے حوالے سے تجاویز بھی طلب کر لی ہیں۔چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ جو والدین اپنے ایسے بچوں کو قبول نہیں کرتے وہ اپنے دینی،اخلاقی اور قانونی فرض سے روگردانی کرتے ہیں انسان ہو نے کے ناطے والدین اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ان کی حفاظت اور پرورش دوسرے بچوں کی طرح کریں۔عدالت نے چاروں صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے تفصیلی رپورٹس آئندہ سماعت پر پیش کر نے کی ہدایت کر تے ہوئے مقدمہ کی سماعت اگست کے تیسرے ہفتہ تک ملتوی کر دی
Tags: hejra, khusra, khwaja sara, Ladyboy, supreme court









0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment