لندن ۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف امریکہ کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں زرداری حکومت کے خلاف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ مستقبل قریب میں ان کی حکومت میں واپسی کی حمایت کی جائیگی۔اخبار کے مطابق مارچ میں وکلاء مارچ کے بعد سے نوازشریف غیر معمولی طور پر خاموش ہیں تاہم وہ نجی ملاقاتوں میں اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر ملک کی باگ ڈور سنبھالنا چاہتے ہیں۔اخبار کے مطابق نواز شریف کی خاموشی کے باوجود صدر زرداری سیاسی طور پر کمزور ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ نہ تو قبائلی علاقوں میں سیاسی اصلاحات کرسکے ہیں اور نہ ہی بھارت کو رعایتیں دی جاسکی ہیں۔صدر زرداری جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے تیزی سے اس جانب کوئی اقدامات کئے تو ان کے اقتدار کیلئے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔دریں اثناء ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کی ڈوریاں لندن اور واشنگٹن سے ہلائی جارہی ہیں۔انہوں نے نواز شریف کا نام لئے بغیر کہا کہ مقبولیت کی بلندی کو چھونے والوںکا زوال شروع ہوچکا ہے کیونکہ لوگ اب سمجھنے لگے ہیں کہ یہ بھی امریکی لائن پر چل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کے بدتر ہوتے ہوئے حالات میں بھی نہ صرف خاموش بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ زرداری حکومت کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم نے دیکھ لیا ہے کہ کاربن ٹیکس سمیت عوام پر بوجھ ڈالنے والا بجٹ منظور کروانے میں کس طرح نواز لیگ نے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف وزارت داخلہ کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا لیکن نواز لیگ کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دور میں عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ کو ہی کردار ادا کرنا ہے ویسے بھی سپریم کورٹ کو سب سے زیادہ عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔چیف جسٹس کیلئے لوگ دو سال تک سڑکوں پر رہے ہیں۔عوام نے کسی سیاستدان کیلئے ایسا احتجاج کبھی نہیں کی









0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment