مستحکم پاکستان ہندوستان کی سلامتی کا ضامن ہے ۔کشمیر بھارت کیلئے کوئی سکیورٹی مسئلہ نہیں ہے
وزیراعظم آفس کے تقدس کو برقرار رکھا جائے ، آئین ، قانون اورضابطے کے تحت کام کیے جائیں ، کوئی سفارش نہیں مانوں گا
احترام اپنی جگہ لیکن سردارقیوم ، سکندر حیات اورعتیق خان کی بھی سفارش نہیں چلے گی
وزیراعظم سیکرٹریٹ آنے والوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں
مظفر آباد۔۔ وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حید رخان نے کہا ہے کہ پاکستان غیر مستحکم ہوا تو ہندوستان بھی نہیں بچ سکے گا ۔کابل سے دہلی زیادہ دور نہیں ہے ۔ مستحکم پاکستان ہندوستان کی سلامتی کا ضامن ہے ۔کشمیر بھارت کیلئے کوئی سکیورٹی مسئلہ نہیں ہے ۔ہندوستان نے اگر دینا میں اہم مقام حاصل کرنا ہے تو اسے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہو گا۔مسئلہ کشمیر ہندوستان کے راستے میں سب سے بڑ ی رکاوٹ ہے ۔کشمیر دہشت گرد نہیں ۔ہماری مزاحمتی تحریک اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے ۔انڈیا کو پاکستان سے سکیورٹی تحفظا ت دور ہونے چاہیے ۔ہندوستان کو تشد دوالی پالیسی تر ک کرنا ہو گی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے بھارتی صحافی و دانشور نسرین حمید سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو دوستی، بھائی چارہ اور امن کا پیغام دیتے ہیں ۔ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔دنیا میں طاقت کے زور پرامن قائم نہیں رہ سکتا ۔لوگوں کی رائے کو تسلیم کرنا ہو گا۔تشدد سے کبھی مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔اگر ایک گولی بھی چلتی رہی تو پائیداد امن قائم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ی ہرگز ہندوستان کے مخالف نہیں ہیں۔ہندوستان ہمارا پڑ وسی ملک ہے اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کو پاکستان میں تخریب کاری کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے ۔اگر پاکستان غیر مستحکم ہوا تو ہندوستان بھی نہیں بچ سکے گا۔کابل سے نئی دہلی زیادہ دور نہیں ہے ۔قبائلی علاقوں اور افغانستان کا اسلحہ اگر ماؤباغیوں کے پاس پہنچ گیا تو ہندوستان کیسے بچ سکے گا۔پاکستان کا مستحکم اور رپرامن رہنا ہندوستان کی سا لمیت کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تشدد کا ذمہ دار امریکہ ہے روس کی جنگ کے بعد امریکہ نے افغانیوںکو تنہا چھوڑ دیا۔اسلام جارحیت کا نہیںامن وسلامتی کا درس دیتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو تشد دوالی پالیسی تر ک کرنا ہو گی۔پاکستان چھوٹا ملک ضرور ہے ۔لیکن ہم ہندوستان کی بالادستی کو کبھی تسلیم نہیں کر یں گے ۔اس خطے میں اگر ہندوستان نے اقتصادی طاقت بننا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔اب بھارت میں ایک طبقہ موجود ہے جو مسلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے ۔ہندوستان دنیا میں اس وقت تک اہم مقام حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ تنازعہ کشمیر حل نہیںکرتا۔مسئلہ کشمیر ہندوستان کی ترقی میں سب سے بڑ ی رکاوٹ ہے ۔اس تنازعہ کو جتنا جلدی حل کیا جائے ہندوستان کے مفاد میں ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر بھارت کی نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے ۔ہندوستا ن کو اس ایشو سے باہر نکلنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو تشدد اور عدلیہ کے معاملات کو انتظامی طریقہ سے کبھی حل نہیں کیا جا سکتا۔زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر فیصلے کے ئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انتہاء پسند ہندوستان میں بھی موجود ہیں اور پاکستان میں بھی موجود ہیں۔اگر یہ طبقہ غالب آ جائے تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔انہوں نے کیا کہ انڈیا کو پاکستان کی پوزیشن سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔پاکستان کے راستے ہندوستان دنیا کی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے ۔اگر پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات اچھے ہو جائیں تو یہ خطہ ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ انڈیا کو پاکستان سے سکیورٹی تحفظات دور ہونے چاہیں۔پاکستان، ہندوستان کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ہمیں ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے ۔پاکستان کے عوام ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ہندوستان کو نفرتوں کی سیاست ترک کرنا ہو گی۔نفرت پر بنی کوئی بھی عمارت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔وزیراعظم نے کہا کہ میں ہندوستان کی حکومت اور عوام سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کریں اس میںسب کی بہتری ہے ۔ اس سے قبل وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ملازمین کے تعارفی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حید رخان نے وزیراعظم سیکرٹریٹ و ہاؤس کے اخراجات میں کمی اور مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کے تقدس کو برقرار رکھا جائے ۔آئین ، قانون اور ضابطے کے تحت کام کیئے جائیں۔کوئی سفارش نہیں مانوں گا۔احترام اپنی جگہ لیکن سردار قیوم ، سکند رحیات اور عتیق خان کی بھی سفارش نہیں چلے گی۔وزیراعظم سیکرٹریٹ آنے والوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، لوگوں کی عزت واحترام کا خیال رکھا جائے ۔خاص کر خواتین اور بزرگوں کا احترام کیا جائے ۔اوقات کار کی سختی سے پابند ی کی جائے ۔بجلی کے اخراجات کم کرنے کیلئے انرجی سیور کا استعمال کیا جائے ۔اور اس کی ابتداء وزیراعظم سیکرٹریٹ اور ہاؤس سے کی جائے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اختیارات کے لحاظ سے وزیراعظم سیکرٹریٹ سب سے بڑ ادفتر ہے اس لئے اس کا تقدس بھی اہم ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ عظمی کا منصب مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملا ۔مجھے وزیراعظم بنا کر اللہ تعالی نے لوگو ں کو بتا دیا کہ اس کے وسائل دنیا کے وسائل سے زیادہ ہیں۔بعض چیزیں انسان کے بس سے باہر ہوتیں ہیں ۔نتائج اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لو گو ں کی خدمت کا شوق ہے ۔لیکن کبھی اقتدار کی لالچ نہیں کی ۔عزت کے ساتھ سیاست کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب سمجھا کہ وزارت عظمیٰ کی کرسی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا تو اقتدار چھوڑ دوں گا۔لیکن اس کرسی کے تقد س کو پامال نہیں ہونے دوں گا۔میر ی اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یہاں سے عز ت کے ساتھ رخصت کرے ۔وزیراعظم نے کہا کہ اختیارات کے لحاظ سے یہ سب سے بڑ ا دفتر ہے ۔جب میں ایم ایل اے تھا تو میرے حلقہ کے لوگ درخواستیں لے کر آتے تھے ۔میں وزرایا وزیراعظم کو مارک کر تا تھا۔اگر ایم ایل اے سے خرابی ہوجائے تو وزیر ٹھیک کر دیتا ہے ۔اگروزیر سے ہوجائے تو وزیراعظم ٹھیک کر دیتا ہے ۔اور اگر وزیراعظم سے خرابی ہو جائے تواس کو صرف عدالت ہی ٹھیک کر سکتی ہے ۔اس لئے آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ اس آفس کے جو تقدس ہیں اس کو سامنے رکھا جائے ۔اس آفس کے تقد س پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ جس مقصد کے لئے یہ آفس بنا ہے ۔اس کے تقاضے پورے کر نے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہ کوئی بیٹا ، بیوی یا دوست کام آئے گا۔ کبھی کسی کی سفارش نہیں مانوں گا۔احترام اپنی جگہ لیکن اگر سردار قیوم ، سکند رحیات اور عتیق احمد خان کی بھی سفارش نہیں مانوں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پبلک ڈیلنگ آفس ہے ۔یہاں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔کوشش کریں جو آدمی آئے مطمئن ہوکر جائے ۔لوگو ں کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آئیں ۔عزت کے ساتھ رخصت کریں۔لوگوں کی توہین نہیں ہونی چائیں۔ہمارے پاس جو اختیارات ہیں سب کے لئے استعمال ہونے چاہیے ۔راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہاں خواتین بھی آتی ہیں۔خواتین اور بزرگوں کا احترام کیاجائے ۔معذروں کا خیال رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اوقاتِ کار کی پابندی کی جائے ۔نظم وضبط کا خیال رکھا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ اخراجات میں کمی کی جائے ۔مالیاتی ڈسپلن پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ۔مالِ مفت دل بے رحم والی پالیسی اب نہیں چلے گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے سولر انرجی کو استعمال کیاجائے ۔اور اس کی ابتداء وزیراعظم سیکرٹریٹ اور ہاؤس سے کی جائے انرجی سیور لگائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس آفس سے لوگوں کی بہت سے توقعات ہیں۔عوام کے مسائل حل کریں گے









0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment