موجودہ سیاسی ماحول میں اٹھاون ٹو بی کی بھی کوئی افادیت نہیں رہی
جنوبی وزیرستان ایجنسی میں وقت سے پہلے آپریشن مکمل کر لیں گے
وزیر اعظم کی پھول نگر میں پاور پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت
پھول نگر ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے این آر او ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے اتحادیوں کے تحفظات دور کر دئیے گئے ہیں ۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اٹھاون ٹو بی کی بھی کوئی افادیت نہیں رہی ۔اختلاف رائے جمہوری عمل ہے دیرینہ ایشوز پر بھارت سے مذا کرات کی بحالی چاہتے ہیں ۔ اعتزاز احسن کو کسی عہدے کی پیش کش نہیں کی گئی ۔جنوبی وزیرستان ایجنسی میں وقت سے پہلے آپریشن مکمل کر لیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پھول نگر میں پاور پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا تاہم پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا این آر او ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے ۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اٹھاون ٹو بی بھی افادیت نہیں رہی کیونکہ اٹھاون ٹو بی عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں وقت سے پہلے آپریشن مکمل کر لیں گے ۔ فوج کے ساتھ قوم کا یہی جذبہ رہا تو شدت پسند وزیرستان میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذا کرات کی بحالی چاہتے ہیں ڈاکٹر من موہن سنگھ کی بھی یہی خواہش ہے کہ دیرینہ ایشوز پر بات چیت کی جائے ۔ انہوںنے کہا کہ جامع مذا کرات ہونا چاہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چوہدری اعتزاز احسن پارٹی سے وابستہ ہیں پارٹی میں رہیں گے اور پارٹی کونہیں چھوڑ یں گے ۔ صدر اور میرے ساتھ چوہدری اعتزاز احسن کی ملاقاتوں میں گورنر پنجاب کی تبدیلی سمیت اس قسم کے ایشوز پر بات چیت نہیں ہوئی۔ ایم کیوایم سیاسی جماعت ہے اس کا اپنا موقف ہے وہ ہمارے اتحادی ہیں۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے ۔انہوں نے این آر او پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ ہم اس مسئلے کو حل کر چکے ہیں آئندہ بھی اتحادیوں کے کوئی تحفظات ہوئے تو انہیں دور کیا جائے گا ۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ نشاط پاور پلانٹ پرائیویٹ سیکٹر میں تیسرا بڑ ا منصوبہ ہے اس کے افتتاح سے لوگوں میں توانائی کے بحران کی وجہ سے پائی جانے والے احساس کمتری کو ختم کر نے کا موقعہ ملے گا اس منصوبے سے ملک کی بری طرح متاثر صنعت کی ترقی کی رفتار کو تیز کر نے میں بھی مدد ملے گی بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی 2000میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا تھا جن کو بے نظیر نے فوری اقدامات سے اس کمی کو پورا کر نے کے لئے کام کیا انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے اقدامات کے نتیجے میں بیرونی سر مایہ کاروں نے توانائی کے شعبے میں تین ارب ڈالر سر مایہ کاری کی جس سے 3000 میگاواٹ بجلی حاصل ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ان کی حکومت بجلی کی کمی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس وقت 3500 میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ہم نے اس توانائی کے بحران پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا اور اس سلسلے میں اضافی بجلی بملک کے بجلی کے نظام میں شامل کی جا رہی ہے جو ہمارے عوام سے کئے گئے وعدوں کا ثبوت ہے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دوسرے ذرائع کے ساتھ ہائیڈرو پاور اور کوئلے کو بھی توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے استعمال کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ملک کے توانائی کے شعبے میں اضافے کے لئے انجن کا کام کر نا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پبلک پرائیویٹ اور پرائیویٹ پبک کے اشتراک اس کے ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ملکی سطح پر کمپنیوں کی جانب سے ملک کے توانائی کے شعبے میں سر مایہ کاری بہت مثبت ہے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے جس کے لئے پر امن سیاسی صورتحال بہت ضروری ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو اقتصادی شعبے کی ترقی پر توجہ دینے میں مدد دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پر امن سیاسی صورتحال سے لوگوں کو ترقی کر نے کے لئے مثبت مواقع دستیاب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی فلیکٹرز اور اندرونی مسائل کے باوجود ہماری حکومت ملک میں مستحکم سیاسی صورتحال کو بر رقار رکھنے کے لئے پر عزم ہے انہوں نے اس سلسلہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے ملک میں بہتر سیاسی فضا قائم کر نے کے لئے مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ تمام ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں آج گلو بلائزیشن کے دور میں کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا ہم تمام دنیا سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو توانائی کے شعبے میں سر مایہ کاری کر نے کے لئے سہولتیں فراہم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صنعت اور تجارت کو خارجہ پالیسی کے اہم ستون کی حیثیت سے لے کر چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال بیرونی سر مایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر نے کے لئے اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی جاتی جس کو اداروں کی جانب سے تحفظ حاصل ہو پاکستان ایک لمبے عرصے کی ڈکٹیٹر شپ کے دور کے بعد اپنے اداروں کی دوبارہ تعمیر کر رہا ہے تا کہ ملکی ادارے مستحکم ہوں اور جمہوری روایات کو قائم کر نے اور آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے سے منسلک تمام ادرے ملک سے بجلی کی کمی کو دور کر نے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی بجلی کی کمی کو شوگر ملوں اور کپڑ ے کی ملوں سے خرید کر پورا کر نے کے عمل کو سراہا وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ ایسی پالیسی بنائی جا رہی ہے جس کے تحت شوگر ملوں اور ٹیکسٹائل کی صنعت سے بجلی حاصل کی جا سکے وزیر اعظم نے اس موقع پر 200 میگا واٹ کے پاور پلانٹ کا افتتاح کیا اور نجی شعبے سے توانائی کے شعبے میں سر مایہ کاری کر نے کی درخواست کی انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی موجودہ صورتحال سے واقف ہیں اور ملک میں سیاسی استحکام کی کوششیں کر رہے ہیں لوگ اس وقت توانائی کے بحران کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہیں اور بجلی کے بحران کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے









1 response so far ↓
1 urdu , urdunews, urdunewspaper, newsurdu, online urdunews, مورخہ ٧ نومبر ٢٠٠٩ کا تصویری اخبار // Nov 8, 2009 at 12:22 am
[...] این آر او ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے ‘ اٹھاون ٹو بی کی بھ… وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے این آر او ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے اتحادیوں کے تحفظات دور کر دئیے گئے ہیں ۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اٹھاون ٹو بی کی بھی کوئی افادیت نہیں رہی ۔اختلاف رائے جمہوری عمل ہے دیرینہ ایشوز پر بھارت سے مذا کرات کی بحالی چاہتے ہیں ۔ اعتزاز احسن کو کسی عہدے کی پیش کش نہیں کی گئی ۔جنوبی وزیرستان ایجنسی میں وقت سے پہلے آپریشن مکمل کر لیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا تاہم پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا این آر او ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے ۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اٹھاون ٹو بی بھی افادیت نہیں رہی ۔مزید۔۔۔ [...]
Leave a Comment