ترکی اور پاکستان کے سرمایہ کاروں نے باہمی تجارت کی کئی اہم یاداشتوں پر دستخط کئے ہیں
استنبول اورلاہور 1975ء سے جڑواں شہر ہیں وقت آگیا ہے کہ دونوں شہروں کے درمیان اس معاہدے کو شہریو ں کے لئے سودمند بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعلی پنجاب
استنبول۔وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام اپنے تجارتی وفد کی شاندارپذ یرائی پر ترک حکام اورسرمایہ کاروں کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترک تاجروں کا ایک ایسا ہی وفد بہت جلد پنجاب کا دورہ کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز استنبول میں ترکی کی بیرونی تجارت کے ادارے ڈیک(Deik)کی طرف سے اپنے وفد کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے وائس چےئرمین پیر سعد احسن الدین کے علاوہ ممتاز بین الاقوامی تجارتی اداروں کے سربراہوں نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ترکی اورپاکستان کے سرمایہ کاروں نے باہمی تجارت کی کئی اہم یادداشتوں پر دستخط کئے۔باہمی تجارت کے معاہدوں میں غازی ٹریکٹرز اورعلی اکبر گروپ کے ترک سرمایہ کاروں کے ساتھ وہ چار معاہدے خصوصی اہمیت کے حامل ہیںجن کے تحت ترکی اورپاکستان ایک دوسرے کے ساتھ ڈرپ اریگیشن، پاوراریگیشن، ہائی کوالٹی بیجوں اورٹیلی کام کے شعبوں میں تجا رت کریں گے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پاکستانی معیشت کے لئے نیک شگون کی حیثیت رکھتے ہیں مگر یہ معاہدے ہماری منزل نہیں بلکہ نشان منزل ہیں ہمیں ترکی کے ساتھ پاکستان کی تجارت کو کم از کم5گنا کرنا ہے جس کے لئے پنجاب کے سرمایہ کاراور تاجراہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ترک سرمایہ کاروں نے اس موقع پر وزیراعلی کو اپنے بہترین تعاون کا یقین دلایا۔بجلی کی پیداوار کے لئے ہوائی چکیاں پیدا کرنے والے معروف عالمی ادارے کے سربراہ مرات برسا (Murat Barsa)نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں پانچ میگاواٹ ہوائی چکیاں لگاچکا ہے اورآئندہ50میگاواٹ کی ہوائی چکیاں لگانے کاارادہ رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کسی دفتری رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اوردوسرے ملکوں کے برعکس پاکستان میں بیوروکریسی نے ہمیشہ سہولت دی ہے۔ترکی میں قائم مسلم دنیا کے سرمایہ کاروں کی تنظیم مسیاد(Musiad)کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ عالم اسلام باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے تمام مسلم ممالک کو مسیاد جیسے اداروں سے تعاون کرنا چاہیے۔محمدشہبازشریف نے استنبول کے مےئرقادرتوپ باش سے ملاقات کی ،مےئر نے وفد کو بتایا کہ کہ وہ کئی بار پاکستان جا چکے ہیں جہاں وہ حضرت علامہ اقبال کے مزار پر خاص طورپر حاضری کے لئے جاتے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ استنبول اورلاہور 1975ء سے جڑواں شہر ہیں اور وقت آگیا ہے کہ دونوں شہروں کے درمیان اس معاہدے کو شہریو ں کے لئے سودمند بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.