Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

وزیراعلیٰ پنجاب اپنی خواہشات کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں‘ جہانگیر بدر

January 19th, 2010 by awais · No Comments;  

٭۔ ۔ ۔ اگر کسی کو سیاست نہیں آتی اور آئین نہیں پڑھا تو اس کا ہم کچھ نہیں کرسکتے‘آئین میں صدر مملکت اور سیاسی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں
٭۔ ۔ ۔ ہم نے عوام کیلئے قربانیاں دیں‘ کوڑے کھائے۔ جن لوگوں کی انگلی پر کوئی زخم نہیں آیا وہ آج جمہوریت کے چیمپیئن بن بیٹھے ہیں:

لاہور۔پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اپنی خواہشات کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی بات کرنی ہے کون سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں صدر مملکت اور سیاسی عہدہ ایک ساتھ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اگر کسی کو سیاست نہیں آتی اور آئین نہیں پڑھا تو اس کا ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کرنے کی بجائے ملک میں جمہوریت کو مضبوط اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ جو سیاستدان ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے سینے پر کوئی داغ نہیں ہے اور نہ ہی اس نے ماضی میں کوئی ایسا کام کیا ہے جس پر شرمندگی محسوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کیلئے قربانیاں دیں‘ کوڑے کھائے۔ جن لوگوں کی انگلی پر کوئی زخم نہیں آیا وہ آج جمہوریت کے چیمپیئن بن بیٹھے ہیں۔ ہمارا ایجنڈا جمہوریت کو مستحکم اور عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے فیصل آباد دورے کے موقع پر لوگوں کی جانب سے پیپلزپارٹی کے جھنڈے پھاڑنے و جلانے سے متعلق سوال ے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی پاکستان سے محبت کرتا ہے اور وفاق کو قائم رکھنا چاہتا ہے ایسی مضموم حرکت نہیں کرسکتا۔ ہمارے خلاف ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کہاں سے آجاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے یہ حرکت نہیں کی کیونکہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرسکتے جس سے پارٹی اور اس کی قیادت پر کوئی حرف آئے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر کو پارٹی عہدہ سے الگ کرنے سے متعلق مشورے پر انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے جنہیں سیاست کا پتہ ہے نہ آئین کا۔ پاکستان کے آئین میں صدر مملکت اور پارٹی عہدہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں پارٹی کے سربراہ ملک کے بھی سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو سمجھ نہیں آتی کہ انہیں کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔ یہاں تو ریڑھی والے کے پاس بھی کہنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ تو سیاستدان ہیں۔ انہیں سیاست کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر ذاتی حملے جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر جو دستخط کئے تھے پیپلزپارٹی اس پر عمل پیرا ہے۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘ گلگت و بلتستان کی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ اسی چارٹر کا حصہ ہیں لیکن بعض لوگ میثاق جمہوریت کے ٹھیکیدار بننے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اس سب کو جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا دورہ پنجاب بلدیاتی انتخابات کی مہم کا حصہ نہیں ہے بلکہ وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں جس سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مختلف صوبوں میں جا کر عوام کے مسائل سننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض رہنما یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ آصف علی زرداری پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اس لئے پیپلزپارٹی کے رہنما کو ہی ان کا استقبال کرنا چاہیے جبکہ میاں نوازشریف بلوچستان اور سندھ گئے تو ان کا استقبال ہمارے وزیراعلیٰ اور پارٹی عہدیداران نے کیا۔ ہم یہاں اچھی روایات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کا کوئی خوف نہیں لیکن جمہوریت کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو