ملازمت یا عہدے سے پہلے نااہلیت کی صورت میں صدر مملکت کے معاملے میں آئین کا آرٹیکل 248 آڑے نہیں آ سکتا
اسلام آباد ۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ این آر او پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی اہلیت ایک سوال بن گئی ہے ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے منظر عام پر آنے کے بعد اب صدر آصف علی زرداری کو عدالتوں میں جانا پڑے اور غیر ملکی عدالتوں میں تو لازماً جانا پڑے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نااہلیت دو طرح کی ہوتی ہے ایک وہ نااہلیت ہوتی ہے جو دوران ملازمت یا عہدے سے پہلے کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں صدر مملکت کے معاملے میں آئین کا آرٹیکل 248 آڑے نہیں آ سکتا یہ آرٹیکل صرف اس صدر کو تحفظ دیتا ہے جو انتخاب کے وقف اہل رہا ہو ۔ اگر وہ اہلیت کا حامل ہی نہ ہو تو اس کو اس آرٹیکل کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا ۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ افراد اور اداروں میں فرق ہوتا ہے اور اگر صدر مملکت کی اہلیت کے بارے میں کوئی اٹھتا ہے تو اس سے حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment