جمہوری عمل کو کچھ ہوا تو ملک ایک بھنور کی طرف چلا جائے گا
فیصلے پرعملدرآمد کرانے کے لیے وکلاء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماکا استقبالیہ سے خطاب
اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینٹر راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ این آر او کے بارے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو یہ نظام کو جڑ سے اکھاڑے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ ایسا ہوا تو ملک کو بھنور کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ فیصلے پرعملدرآمد کو یقینی بنوانے کے لیے وکلاء کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گی ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کے نومنتخب جوائنٹ سیکرٹری مہتاب خان ایڈووکیٹ کے اعزاز میں استقبالیہ کے موقع پر کیا۔ حکومتی آزمائش کا وقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ انصاف فراہم کر رہی ہے ۔ این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنوانے کے لیے شایدبار کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے اور وکلاء کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گی ۔ این آر او کا حکومت نے بھی دفاع نہیں کیا تھا۔ نظر ثانی کی پٹیشن پر کسی فیصلے کے تبدیل ہو نے کے امکانات کم ہو تے ہیں ،اس میں بھی اگر بڑی غلطی سامنے آئے تو پھر نظر ثانی کی اپیل کی جا سکتی ہے۔ این آر او کے خلاف عدلیہ کا فیصلہ عالمی سطح کا تاریخ ساز فیصلہ ہے ۔حکومت کے لئے فیصلے پر عمل کرنا ناگزیر ہے ۔ کوئی ادارہ اس پر عمل کرنے سے انکار اوراسے روک نہیں سکتا۔ عملدرآمد نہ کیا گیا تو پاکستان کو بھنور کی جانب سے دھکیل دیا جائے گا جو نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے مترادف ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئین کی حکمرانی کے ذریعے ملک آگے بڑھے۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں محاذ آرائی بڑھانے سے بڑا بحران پیدا ہو گا۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں ۔ این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے ایسا انتہائی خطرناک ہو گا۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.