اسلام آباد ‘ وفاقی وزراء ملک کے اندر بلیک واٹر کی موجودگی کی تردید نہ کر سکے ۔اراکین سینٹ کی جانب سے وزیر داخلہ رحمان ملک کے استعفیٰ کا مطالبہ ۔ جمعہ کے روز سینٹ کے وقفہ سوالات کے دوران پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے ضمنی سوال کے دوران پوچھا کہ امریکی وزیر دفاع نے حالیہ دنوں میں بیان دیا ہے کہ ان کی تنظیمیں پاکستان کے اندر کام کررہی ہیں جبکہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایوان میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ اگر پاکستان کے اندر بلیک واٹر کے کسی ایک اہلکار کی موجودگی ثابت ہو جائے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ اب ملک کے اندر بلیک واٹر کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے اب وزیر داخلہ کو مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ کی بجائے وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے بیانات میں جو تضاد آیا ہے اس وقت وزیر داخلہ چونکہ ایوان میں موجود نہیں اس لیے وہ یہاں آ کر خود اس حوالے سے جواب دیں ۔ اس موقع پر سینیٹر رضا ربانی نے سوال کیا کہ وفاقی وزیر ایوان کو ملک کے اندر بلیک واٹر کی موجودگی کے حوالے سے ہاں یا نہ جواب دیں جس پر وزیر اطلاعات و نشریات نے بلیک واٹر کی ملک کے اندر موجودگی کی تردید کرنے کی بجائے ٹالتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے نیا سوال جمع کرایا جائے جس پر اراکین نے احتجاج کیا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی کی موجودگی میں وزیر اطلاعات کیوں جواب دے رہے ہیں
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.