اسلام آباد‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹرظفر علی شاہ نے سینٹ میں اپنے نکتہ اعتراض کا جواب نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرانکتہ اعتراض ملکی سلامتی سے متعلق تھا وفاقی وزراء اور آپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا میں آج کی کارروائی سے واک آؤٹ کرتا ہوں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ وزیر داخلہ نے ہاؤس کے سامنے کہا تھا کہ اگر ملک میں بلیک واٹر ثابت ہو گئی تو میں استعفی دے دوں گا۔ اب امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ بلیک واٹر اور ڈائینو کورپ پاکستان میں موجود ہے ۔ یہ وہ باتیں نہیں ہیں کہ جن کو چھوڑ دیا جائے اس مسئلہ کا تعلق براہ راست پاکستان کی سیکورٹی سے ہے اس کی انکوائری کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیں بتائے کہ امریکی وزیر دفاع جھوٹ بول رہاہے یا ہمارا وزیرداخلہ جھوٹ بول رہا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ سٹیٹ بنک کے اقدامات اینٹی لیبر اقدامات بن رہے ہیں جو موجودہ حکومت کی پالیسی کے خلاف ہیں ۔ سٹیٹ بنک نے بینکوں میں 12.5 فیصد شیئر غریب مزدوروں کو نہیںد یا ۔ سٹیٹ بنک بینکنگ کارٹل کا تحفظ کر رہا ہے وہ محنت کشوں کو ان کا حصہ نہیں دینا چاہتے انہوںنے کہا کہ آئی آر اے 2002 ء کے اندر یہ شق موجود ہے ۔ سٹیٹ بنک ۔ وزیراعظم کے عوامی وعدوں اور وزیراعظم کے عوامی وعدوں کی مخالفت کی ہے ۔ سٹیٹ بنک کے اس کردار کو برداشت نہیں کریں گے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.