اسلام آباد ‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عہدے آتے جاتے ہیں بہترین اصول چھوڑ کر جانا چاہیے ۔ آئین کی حکمرانی کی بھرپور کوشش کی جائے عہد کرنا ہو گا کہ ملک میں کرپشن نہیں ہوگی۔ میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت قائم کیا جائے ۔ قانون کی حکمرانی مہذب معاشروں کا خاصہ ہوتی ہے۔ ان معاشروں کو اقوام عالم میں قدر و منزلت حاصل ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کو اسلام آباد میں راولپنڈی بار سمیت مختلف 8 بار ایسوسی ایشنز کے نو منتخب عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ عوام کو بینچ اور بار سے بہت زیادہ توقعات ہیں قانون کی حکمرانی کا اولین کام عوام کی پریشانیوں کو دور کرنا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کرپشن کا عنصر ختم ہو گیا ہے عوام کو نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹس پر زیادہ ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد انصاف فراہم ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی انصاف نہ ہو انسان بددل ہو جاتا ہے۔ ثابت کریں گے کہ ملک میں صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہوگی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ عدلیہ انتظامیہ اور سول سوسائٹی کو مل کر قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرنا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ملک صرف اور صرف آئین کی پاسداری قانونی کی حکمرانی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہے امیر غریب بڑے چھوٹے سب کے لیے قانون مساوی ہے ۔قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے قانون کی بنیاد پر ہی مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے ۔ قانون کے پاس تفریق کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ تفریق شدہ قانون قائم نہیں رہ سکتا انہوں نے کہا کہ وکلاء اس بات کو اعلی ترجیح دیں کہ آئین کی پاسداری ، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے لیے کچھ اور نہیں ہونے دیںگے ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ تمام چیزوں سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت کریں گے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.