افغانستان کے لئے 5 سال کا سیکورٹی منصوبہ منظور کر لیا گیا
لندن ‘ لندن میں منعقدہ’’افغان کانفرنس‘‘ کا حتمی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ۔اعلامیے کے مطابق افغانستان کے لئے 5 سال کا سیکورٹی منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے ۔اعتدال پسند طالبان کو قومی دھارے میں شامل کر نے کے لئے حامد کرزئی کے منصوبے کی حمایت کی گئی ہے جبکہ عالمی برادری نے افغانستان کی امداد بد عنوانی کے خاتمے سے مشروط کر نے کا اعلان کیا ہے ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس سال کے آخر تک کچھ افغان صوبوں کا کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا افغانستان میں کرپشن کے خاتمے کے لئے غیر ملکی ماہرین نے آڈٹ کرایا جائے گا ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اعتدال پسند طالبان کو حکومت کی حمایت کر نے پر معاشرے میں باعزت مقام دیا جائے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے نیٹو افواج کی جگہ افغان سیکورٹی فورسز کو اپنے علاقے کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے مسودے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ یہ عمل سال 2010 کے افتتاح یا سال 2011کے اوائل میں شروع کر دیا جائے گا اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں کرپشن کا جائزہ لینے کے لئے تین،چار ماہ میں غیر ملکی ماہرین کو دعوت دی جائے گی۔ کانفرنس میں تقریباً 70 ملکوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی افغان صدر حامد کرزئی نے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں طالبان کو تشدد ترک کر نے پر قائل کر نے کے لئے جلد ایک امن کانفرنس بلائیں گے ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان کو قومی دھارے میں شامل کر نے کے منصوبے کی حمایت کریں صدر کرزئی نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ امن اور مفاہمت کی اس کوشش میں مدد کریں عالمی اتحادیوں نے کہا ہے کہ وہ مفاہمت کے لئے قائم کئے گئے فنڈ کے لئے 50 کروڑ ڈالر فراہم کریں گے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر مزاحمت کار تشدد کا راستہ ترک کر یں گے تو امریکہ اس منصوبے کی حمایت کرے گا برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغان فوج اور پولیس کی تعداد میں اضافے کی حمایت کر تا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے سال افغانستان کی صورت حال بہتر ہو جائے گی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور نیٹو کے سر براہ نے امید ظاہر کی کہ رواں سال کے آخر تک افغانستان کے کئی صوبوں کا کنٹرول افغان سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.