طالبان کے ساتھ برائے راست مذاکرات خارج از امکان نہیں۔ ہیلری کلنٹن

مذاکرات بارے قیاس آرائیاں سود مند ثابت نہیں ہوں گی

6 جنوری کو طالبان اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے درمیان مذاکرات ہوئے جو ابتداء ہے

امریکی وزیر خارجہ کا انٹرویو

واشنگٹن۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان برائے راست مذاکرات خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اس موقع پر ایسی قیاس آرائیاں مفید ثابت نہیں ہوں گی ۔ اتوار کو ’’بلوم برگ‘‘ ریڈیو سے اپنے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات سے قبل یہ کہنا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان برائے راست مذاکرات ہو سکتے ہیں یا نہیں محض ایک قیاس آرائی ہے تاہم اسے خارجہ از امکان بھی

قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ افغانستان میں امریکی ملٹری کمانڈر طالبان سے مذاکرات کا بھر پور عزم رکھتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ انھوں نے جو کام عراق میں سر انجام دیا وہی کام افغانستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے 6 جنوری کو دوبئی میں بعض طالبان رہنماؤں اور اقوام متحدہ سے نمائندے کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی تاہم انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے ’’کائی ایڈی ‘‘ہی بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے اس کا کیا نتیجہ اخذ کیا وہی طالبان کی ذہنی سوچ کے بارے بہتر بتا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے نمائندے اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ملاقات امن مذاکرات کے لیے ایک ابتداء ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور یہاں سیکورٹی کے انتظامات افغان سیکورٹی فورسز کے حوالے کر کے غیر ملکی افواج کو یہاں سے واپس بلایا جائے اور افغانستان کے ساتھ تمام ممالک کے سفارتی تعلقات استوار ہوں۔

Share

Leave a Reply