گورنرحکومت پنجاب پولیس تفتیش میں دخل اندازی اور عدلیہ کے معاملات میں غیر قانونی مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔مسلم لیگ نون

٭۔ ۔ ۔ پنجاب میں آئینی عہدے پر براجمان جس شخص کا کہنا یہ ہے کہ صوبے میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں،وہ خود انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ذوالفقار علی خان کھوسہ کی پریس کانفرنس
لاہور‘ سینئر صوبائی وزیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے سے پہلے ،گورنر راج کے دوران اور گورنر راج ہٹائے جانے کے بعد بھی حکومت پنجاب کے روزمرہ معاملات میں بے جامداخلت اور سول سرونٹس کو بلا کر دھمکیاں دینے کے علاوہ پولیس تفتیش میں دخل اندازی اور عدلیہ کے معاملات میں غیر قانونی مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں آئینی عہدے پر براجمان جس شخص کا کہنا یہ ہے کہ صوبے میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں،وہ خود انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پنجاب میں جنگل کا قانون نافذ ہونے کا طعنہ دینے والی اس شخصیت نے خود ایک مدت سے لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری نہیںہونے دی اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے نامزد کئے گئے افراد کی فہرست غیر قانونی طور پر اسی شخصیت نے دبا رکھی ہے۔ 90۔شاہراہ قائداعظم لاہورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ سلمان تاثیر وہی شخص ہے جس نے 2007ء میں ایک ڈکٹیٹر کی کابینہ میں حلف لیا ۔آج یہی شخص پنجاب میں لاء آف جنگل کی بات کررہاہے جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ساٹھ ججوں کو ان کے اہل خانہ سمیت سرکاری رہائش گاہوں میں قید کرنے والوں میں شامل تھا اور اس شخص کے وفاقی وزارت پرفائز ہوتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ جس بُری طرح سلوک کیا گیا ،وہ دنیا نے دیکھا ہے۔سینئر صوبائی مشیر نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر نے مارچ2009ء میں گورنر راج لگانے کے بعد پنجاب میں جنگل کا قانون لاگو کردیا تھا ۔ گورنر راج کے دوران ارکان پنجاب اسمبلی کے ضمیر کی قیمت لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔گورنر ہاؤس لاہور کو سیاسی اکھاڑہ اورگھوڑوں کی منڈی بنایا گیا اوربرملا یہ اعلان کیا گیا کہ میں وفاق میں اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین کو پنجاب اسمبلی کے 250۔ارکان کی حمایت پیش کروں گا لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی نے ان کی یہ خواہش حسرت میں بدل کر رکھ دی۔سردار ذوالفقا ر کھوسہ نے کہا کہ یہ شخص اپنا منصب بے شک رکھے ،ہمیں اس کی ذات سے کوئی غرض نہیں لیکن اس منصب کا احترام کرے جو ایک آئینی منصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر صوبہ پنجاب کے اندرونی حالات کو بگاڑنے اورپنجاب کی موجودہ حکومت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے وہ اختیارات بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیںجو اختیارات آئینی طور پران کے پاس نہیں ہیںاور یہ طرز عمل ایک ایسے صوبے میں اپنا یا گیا ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری حلیف جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء ہمیں ہمیشہ یہ کہتے ہیںکہ آپ گورنرپنجاب کے اُوٹ پٹانگ بیانات کا غصہ نہ کیا کریںکیونکہ صوبے میں دونوں بڑی جماعتو ں کی مخلوط حکومت چلتی رہنی چاہیے ۔ہم نے پنجاب میں گورنر راج ہٹائے جانے کے فوراً بعد اپنی حلیف جماعت سے خود رابطہ کرکے انہیں کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ۔انہوں نے اپنی قیادت سے مشاورت کے لئے دو دن کی مہلت طلب کی ۔ہم نے ان کا انتظار کیاتاکہ یہ الحاق نہ ٹوٹے ۔یہ اچھی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور وزراء اب تک ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔وہ یہی کہتے ہیںکہ براہ مہربانی آپ گورنر کے بیانات کو درگزر کریںلیکن جب آمریت کی باقیات میں شامل گورنر پنجاب ہمارے ارکان اسمبلی کو طرح طرح کے لالچ دے رہا ہواور حکومت کی فنکشننگ میںغیر قانونی طور پر دخل اندازی کر رہا ہو،تو ہم درگزر کیسے کرسکتے ہیں۔پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی توگورنرز موجود ہیں،وہاں تو یہ صورت حال نہیں ہے۔سینئر صوبائی مشیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)کی مرکزی قیادت نے گورنر پنجاب کے خلاف کبھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ،البتہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اﷲ خاں نے اپنے بعض بیانات میںمحض ان بیہودہ اور بے بنیاد الزامات کا جواب دیا ہے جو گورنر صاحب بسااوقات صوبائی حکومت پر لگاتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر ایسی زبان استعما ل کرتا رہا ہے جو شائستہ حلقو ں میں استعمال نہیں کی جاتی ۔یہ بازاری زبان ایک گورنر کو تو کیا زیب دے گی،یہ لب ولہجہ کسی کو بھی زیب نہیں دیتا ۔سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہدکے تناظر میں پاکستانی قوم کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے اور سلمان تاثیر ایک ایسا فرد واحد ہے جو پاکستان کے استحکام اور سالمیت برقرار رکھنے میں رخنہ ڈال رہا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ججوں کی تقرری کے لئے جب 26۔افرادنامزد کرکے فہرست گورنر پنجاب کو بھجوائی ،توگورنر نے ٹیلی فون کر کے ہر ایک نامزدفرد کو گورنر ہاؤس بلوایا اور کہا کہ فرداًفرداً انٹرویو کے لئے آئیں۔نامزد افرا د میں سے کچھ حضرات گورنر ہاؤس گئے ،کچھ نے جانے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی سیکرٹری قانو ن کو لکھا کہ سبھی نامزد افراد سے بیان حلفی لیں کہ کیا انہوں نے بطور جج تقرری کے سلسلہ میں گورنر پنجاب سے ملاقات کی ہے تودس نامزد افراد نے یہ بیان حلفی داخل کرایا کہ گورنر نے ان سے یہ عہد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ اگر آپ جج بن جائیںتو آپ ہر طرح سے پیپلز پارٹی کی تائید وحمایت کرتے رہیںگے اور اس عہد نامے کے بعد ہی آپ کانام آگے بھجوایا جائے گا۔ سینئر صوبائی مشیر نے بتایا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ تمام نام واپس لے لئے اور اب صرف 11نام ہائی کورٹ کے جج کے لئے نامزد کئے گئے ہیں۔آئینی تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے میں صوبائی وزیرا علیٰ کی ایڈوائس حاصل کی جائے لیکن گورنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایڈوائس کو اپنی سفارشات میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس حقیقت کے باوجود گذشتہ سوا مہینے سے یہ فہرست اپنے پاس لے کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت 63۔ججوں کی آسامیوں میں سے صرف 20۔آسامیوں پر ریگولر جج صاحبان موجود ہیں جس کی وجہ سے موجودہ جج اوورٹائم لگا کر بھی ہائی کورٹ میں زیر التو اء ہزاروں کیس نمٹا نہیں سکتے ۔صوبائی وزیر قانون کے لاء چیمبر اور چیف سیکرٹری پنجاب کی گاڑی کے حادثے کے بارے میں گورنر کے متنازعہ بیانات سے متعلق ایک سوال کے جواب میںسردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ ان دونو ں معاملات میں آئینی طور پر گورنر کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پ گورنر کے اختیار میں نہیں آتا ۔ گورنر وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے جو عوام کی منتخب کردہ صوبائی اسمبلی میں سے نہیںہوتا ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) تو ایک ایسی جمہوریت پسند پارٹی ہے جس نے الزامات کی زد میں آنے والے اپنے کسی ایم این اے اور ایم پی اے سے کبھی رعایت نہیں برتی اور انہیں استعفے دینے پڑے ۔سردار ذوالفقارعلی خان کھوسہ نے بتایا کہ صوبائی وزیر قانون نے خود یہ پیش کش کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے پلازے کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے،وہ انہیں منظور ہوگا۔اسی طرح چیف سیکرٹری پنجاب بھی رضاکارانہ طور پر اپنی گاڑی کے حادثے کی تحقیقات میں شامل تفتیش ہوگئے ہیں۔

Share

Leave a Reply