طالبان کی حکومت کو بڑی جنگ کی دھمکی

دھمکی مجاہدین شمالی وزیرستان کی شوریٰ کی جانب سے جاری کی گئی
میران شاہ+ اسلام آباد(ثناء نیوز )شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت کو کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس نے کسی ایک گاؤں کا رخ کیا تو ایک بڑی جنگ کا امکان بڑھ جائے گا۔یہ دھمکی مجاہدین شمالی وزیرستان کی شوریٰ کی جانب سے صدر مقام میران شاہ میں قوم شمالی وزیرستان کے نام ایک ضروری اعلامیے کی صورت میں تقسیم کی گئی ہے۔ ایک صفحے کا ایک تحریری پیغام برطانوی ریڈیو کو بھی موصول ہوا ہے۔اس تحریر میں ’بڑی لڑائی‘ میں عام لوگوں کو نقصانات سے بچانے اور مقامی قبائل سے کرزئی حکومت کی منتقلی کے لیے ایک پرامن علاقے کی تشکیل کے لیے ایک جرگہ تشکیل دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔شمالی وزیرستان میں طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کا کنٹرول ہے۔ تاہم اس علاقے پر اس سال کے آغاز سے امریکی ڈرون حملوں میں کافی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس تیزی کی بڑی وجہ طالبان کی جانب سے خوست میں سی آئی اے کے سات اہلکاروں کی ایک خود کش حملے میں ہلاکت کو قرار دیا جا رہا ہے۔اتوار کو جاری ہونے والے تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے حکومت کے ساتھ امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور ایک بھی راکٹ فائر کرنے یا بارودی سرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ تاہم طالبان نے شکایت کی کہ ’حکومت ان کی شرافت اور اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا رہی ہے‘۔حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیاں گنواتے ہوئے شدت پسندوں کا کہنا تھا کہ اس کی پہلی غلطی علاقے میں جاسوسی کا وسیع جال پھیلانا ہے۔ ’اس وجہ سے زیادہ تعداد میں مجاہدین کے ساتھ عام شہری بھی شہید ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جس کا ثبوت ہمارے پاس موجود ہے‘۔امن معاہدے کی دوسری خلاف ورزی فوج کا جانی خیل اور بکاخیل علاقوں سے نہ نکلنا ہے۔ بیان کے مطابق اس کے برعکس فوجی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور عام لوگوں کے مکانات کی تلاشی لے کر انہیں بے عزت کیا جا رہا ہے اور ان کو تکلیف دی جا رہی ہے۔ بعض مکانات کو کارروائی میں مسمار بھی کیا گیا ہے۔خلاف ورزی نمبر تین علاقے سے چوکیوں کا خاتمہ تھا۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ تین چار چوکیاں علامتی طور پر ہٹائی گئی ہیں جب کہ باقی تاحال برقرار ہیں۔ ’ان چوکیوں پر ناقابل برداشت سلوک جس میں عورتوں سے شناختی کارڈ تک مانگا جاتا ہے‘۔طالبان کا کہنا تھا کہ حکومت ان غلطیوں کے ساتھ ساتھ کارروائیوں کی افواہیں اڑا رہی ہے۔ اس بابت انہوں نے ماچس گاؤں میں گزشتہ دنوں فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بقول ان کے بے گناہ اور غیرمتعلقہ افراد کو ہلاک و گرفتار کیا گیا۔برطانوی ریڈیو کے مطابق پاکستانی فوجی ترجمان نے گزشتہ دنوں کم از کم ایک برس تک شمالی وزیرستان میں نیا محاذ نہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس اعلان پر طالبان کو یقین نہیں اور وہ حکومت کے خلاف اس تازہ چارج شیٹ سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے

Share

1 Comment to "طالبان کی حکومت کو بڑی جنگ کی دھمکی"

  1. شاہد مسعود احمد's Gravatar شاہد مسعود احمد
    August 17, 2010 - 10:34 am | Permalink

    خون اور بارود کے اس کھیل میں طالبان کو کیا ملا تباھی بربادی اور جانی مالی نقصان کے سوا کعچھ حاصل ھوا ھو تو معلوم نہیں ؟؟؟ اب وہ دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو کون سمجھائے کہ پاکستان میں ان کے خیر خواہ بھی ہیں مگر وہ پاکستان کو ہی دھمکیاں دے کر بھارت امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرتے ہیں کم از کم پاکستانیوں کو تو پریشان ہی کرتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دے امین

Leave a Reply