Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

ملک میں بجلی سے ٹرین چلانے کا چالیس سال پرانا نظام ختم اور سازو سامان نیلام کرنے کا حکم دیدیا گیا

February 1st, 2010 by awais · 1 Comment;  

لاہور‘ ملک میں بجلی سے ٹرین چلانے کا چالیس سال پرانا نظام ختم اور سازو سامان نیلام کرنے کا حکم دیدیا گیا،ریلوے انتظامیہ کے اس فیصلے سے ملک میں بلٹ ٹرین اور دیگر تیز رفتار ٹرین سروس کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔ پاکستان میں انیس سو ستر میں پہلی بار بجلی سے ٹرین چلانے کا آغاز کیا گیا،اس مقصد کے لئے برطانیہ سے انتیس الیکٹرک انجن درآمد کئے گئے۔لاہور سے خانیوال تک دو سو چھیاسی کلو میٹر طویل ٹریک کے ساتھ بجلی کے کھمبے اور تار بچھانے پر چودہ کروڑ بیس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔چالیس سال بعد اب اس نظام کو ختم کرنے،اس سے منسلک ڈھانچے کو نیلام اور ملازمین کو دوسرے شعبوں میں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے لئے ستائیس جنوری کو ریلوے کے اعلیٰ حکام کے اجلاس کی کارروائی کی دستاویز کے مطابق تمام افسران اس بات پر متفق تھے کہ یہ نظام مزید بیس سے پچیس سال تک قابل استعمال ہے،لیکن اس کو مجبوراً ختم کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ رائے ونڈ سے خانیوال کے درمیان بچھائے گئے نئے ٹریک کے منصوبے میں بجلی کا نظام شامل نہیں کیا گیا۔ بجلی کی ٹرین چلانے سے متعلق اسٹاف کا کہنا ہے بجلی کے انجن سے ٹرین چلانے کے اخراجات ڈیزل انجن سے تقریباً آدھے ہیں۔جبکہ ڈیزل انجن کی زندگی بیس اور الیکٹرک کی تیس سال تک ہے۔ان ملازمین کے مطابق جس انفراسٹرکچر کو نیلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے،اس کی قیمت تیس ارب روپے کے لگ بھگ ہوگی۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے چار سے چھ الیکٹرک انجن چند لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے ٹریک پر لائے جاسکتے ہیں لیکن اس نظام کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔پاکستان ریلوے ٹرینیں چلانے کے لئے سالانہ بارہ ارب روپے کا ڈیزل خریدتا ہے جو اس کے کل اخراجات کا چونتیس فیصد بنتا ہے جس سے آدھی رقم سے پچاس نئے الیکٹرک انجن خریدے جاسکتے ہیں۔تقابلی طور پر فوائد کے باوجود پچھلے چالیس برس میں بجلی کی ٹرین کے لئے کوئی نیا انجن نہیں خریدا گیا اور سوائے لاہور ریلوے اسٹیشن سے مغلپورہ تک کے سات کلو میٹرٹریک کی الیکٹریفیکیشن کو کوئی منصوبہ کیوں نہیں بنایا گیا،دوسری جگہ بھارت نے اس دوران اڑتیس ہزار کلو میٹر ٹریک کو بجلی کی ٹرین چلانے کے نظام سے منسلک کرلیا ہے۔یہ زمینی حقائق بذات خود اس مجرمانہ غفلت کی تحقیقات کا تقاضہ کررہے ہیں۔ چالیس سال پہلے شروع کئے گئے جدید نظام کے خاتمے کا اعلان،درحقیقت ریلوے انتظامیہ کا اعتراف ناکامی ہے۔ پاکستان کے عوام حکومت سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ریلوے میں الٹی گنگا کب تک بہتی رہے گی۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

1 response so far ↓

  • 1 شاہد مسعود احمد // May 24, 2010 at 11:16 am

    جو نقش کہن نظر آئے مٹا دو……….. ھر ایسا نظام جو معمولی سا فائدہ دے اُسے مٹا دینا چاہے تاکہ پاکستان پتھر کے زمانے میں چلا جائے کاش کوئی ذاتی مفاد کو نکال کر ملکی مفاد کو ترجیع دے ھم ہجوم سے ایک قوم بن جائیں

Leave a Comment

Englishاردو