کولمبو ‘ سری لنکا میں 9 اعلیٰ فوجی افسران کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے برطرف کر دیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق مذکورہ افسران جبری ریٹائرمنٹ پر بھیجے گئے ہیں۔سری لنکا میں یہ اقدام انتہائی کشیدہ انتخاب کے بعد اٹھا گیا ہے جس میں موجودہ صدر مہندا راج پکشے اور فوج کے سابق سربراہ جنرل سارتھ فونسیکا آمنے سامنے تھے۔دونوں اپنے اپنے خلاف قتل کے منصوبوں کی بات کر چکے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق برطرف ہونے والوں میں کم سے کم9 اعلیٰ افسران شامل ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق ان میں سے تین میجر جنرل اور چار بریگیڈیئر شامل ہیں۔یاد رہے کہ جنرل فونسیکا کی انتخابی مہم میں کئی فوجی افسران نے حصہ لیا تھا۔سری لنکا میں قومی سلامتی کے منتظم اعلٰی لکشمن ہلوگالے نے کہا کہ یہ افسران سیاست میں حصہ لے رہے تھے اور انہیں فوج کا ڈسپلن قائم رکھنے اور مسلح افواج کی غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے ہٹایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان افسران کا سیاسی مہم میں شامل ہونا صدر راج پکشے کے بیٹے کے معاملے جیسا نہیں جو بحریہ میں افسر ہیں اور اپنے والدکی مہم میں شامل تھے۔جنرل فونسیکا نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ سری لنکا میں انتخاب کے بعد سے ماحول کشیدہ بتایا جاتاہے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.