افغانستان میں عبوری حکومت کے تحت اسلامی ملکوں کی افواج تعینات کی جا سکتی ہیں
حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ نے ملا عمر اور اسامہ بن لادن سے رابطوں کی تردید کردی
پشاور‘حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم انجنیئر گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ مزاحمتی گروہ غیر ملکی اثرات سے آزاد افغان حکومت سے ہی مذاکرات کر سکتے ہیں۔ پشاور میں جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے امریکی منصوبہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ افغان حکومت سے مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں کہ کابل غیر ملکی اثر سے آزاد ہو۔ کرزئی حکومت غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق بااختیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان مزید فوج بھیج کر غلطی کر رہا ہے۔ اور اس کی باعزت واپسی صرف اس صورت ممکن ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان سے نکلنے کا واضح اعلان کرے۔ گلبدین نے کہا کہ اتحادی افواج کا مزاحمت کاروں سے مذاکرات کئے بغیر افغانستان سے انخلا کا نتیجہ وہی ہوگا جو روسی افواج کے جانے کے بعد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عبوری حکومت کے تحت اسلامی ملکوں کی افواج تعینات کی جا سکتی ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے ملا عمر اور اسامہ بن لادن سے رابطوں کی تردید کی ہے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.