سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری کی پریس کانفرنس
کراچی ‘ سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ شاہی سید اور عوامی نیشنل پارٹی لینڈمافیا اورڈرگ مافیا کی سرپرستی کررہے ہیں۔ لینڈمافیا اور ڈرگ مافیا کی سرپرستی کرکے شاہی سید کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک بن گئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں تشدد کی سیاست کررہی ہے۔ کراچی میں اسلحہ کی برآمدگی کے نام پر آپریشن کی باتیں کرنا کراچی دشمنی اور شہریوں سے نفرت کا کھلا ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ممبر صوبائی اسمبلی منظر امام،ممبر صوبائی اسمبلی ریحان ظفر،ممبر صوبائی اسمبلی رضا حیدراور ممبر صوبائی اسمبلی مظاہر امیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے رہنما شہر میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری ایم کیوایم پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اُردو بولنے والے علاقوں کو دہشت گردوں کا گڑھ کہنا قابل مذمت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اے این پی کراچی میں اردو بولنے والے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو مورچہ بند ہوکر دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نے یہ کہہ کر کہ دہشت گردی کے واقعات میں لینڈ مافیا ملوث نہیں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اے این پی لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کی پشت پناہی کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی عوام دیکھ رہی ہے کہ اے این پی کے جھنڈے تلے شہر میں تشدد کے واقعات زمینوں اورفلیٹوں پر قبضے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب انتظامیہ لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو اے این پی آگے آکر ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف اے این پی کہہ رہی ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے جبکہ دوسری جانب اے این پی سندھ کے صدر 10ہزار مسلح افراد کا لشکر تشکیل دے رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی شہر کراچی کو بارود کے ڈھیر میں لے جارہی ہے۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں18جنوری2009ء سے1فروری2010ء تک ایم کیوایم کے 122کارکنان بشمول ہمدرد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں جاری دہشت گردی میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.