اسلام آباد‘ آج پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منارہی ہے۔ نائن الیون کے بعد اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے دوران کشمیر میں آزادی کی تحریک متاثر ہوئی۔ امریکا میں سانحہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کو جہاں کئی دیگر معاملات پر سخت نقصان اٹھانا پڑا وہاں کشمیر کی وہ تحریک آزادی بھی بری طرح متاثر ہوئی جس کے ساتھ پاکستانی عوام کی ایک خاص نظریاتی وابستگی تھی۔ امریکا نے بظاہر نائن الیون کے واقعے پر افغانستان کی سرزمین کو موردالزام ٹھہرایا لیکن دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ان تمام پاکستانی تنظیموں کو بھی شامل کردیا جو کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف سرگرم تھیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کا کشمیر ایشو کو پس پشت ڈالنے سے کشمیری قوم کو مایوسی ہوئی ہے۔کشمیر کے لئے کام کرنے والی کچھ تنظیمیں کالعدم ہوگئیں جبکہ مذہبی جماعتوں نے نائن الیون کے بعد اپنے آپ کو تحریک آزادی کشمیر کیلئے صرف بیانات تک محدود کردیا۔ مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے والے حکمرانوں کی وجہ سے یہ تحریک متاثر ہوئی ہے۔پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پرجوش انداز میں منانے سے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو جتنی خوشی ہوتی ہے، وہاں اگلے ہی روز اس ایشو کو دوبارہ سردخانے میں ڈال دینے پر انہیں اتنی ہی مایوسی ہوتی ہے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.