بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا ہے پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو ، سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جائے
جنرل مشرف نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ۔ موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی پر امریکی دباؤ کی گہری چھاپ ہے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کانئی دہلی میں خصوصی انٹرویو
اسلام آباد‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکومت سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تنازعے کے حل کے لیے بامعنی سہ فریقی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ ذیلی سے بات چیت نہیں ہوگی ۔ سید علی گیلانی ان دنوں دہلی کے ایک ہسپتال میں ل زیر علاج ہیں۔ آج ایک جریدے سے انٹرویو میں سید علی گیلانی نے انکشاف کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران بھارتی حکومت کے ایک اعلی افسر وجاہت حبیب اللہ کی قیادت میں وفد میرے پاس آیا تھا انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی تھی علی گیلانی نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشکش نہ صرف ٹھکرا دی بلکہ وجاہت حبیب اللہ سے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیا جائے کہ پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اورنتیجہ خیز سہ فریقی بات چیت کے لیے آمادہ ہوں تو بات ہو سکتی ہے ہم کسی ذیلی ااور چھوٹے ایشو پر بھارت سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قسم کے دو طرفہ مذاکرات کومسترد کیا ہے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور برسوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر پر دو طرفہ یا خفیہ مذاکرات بے معنی ہیں خصوصا اس لیے بھی کہ بھارت کی نیت ہی ٹھیک نہیں۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو مذاکرات کا کیا فائدہ ۔ اس سے پہلے مذاکرات کے 130 سے زیادہ دور ہو چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلا ۔ خفیہ مذاکرات کی دعوت دینے والوں سے بھی یہی کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور کالے قوانین ختم کرے ۔ ظاہر ہے بھارت نے یہ باتیں تسلیم نہیں کیں چنانچہ میں نے ان مذاکرات میں شمولیت کی بھارتی پیش کش ٹھکرا دی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے نمائندے وجاہت حبیب اللہ میرے پاس دہلی میں میری رہائش گاہ پر آئے تھے ان کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی ۔ انہوں نے مجھے وزیر داخلہ چدمبرم کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دی تاہم میں نے ان سے کہا کہ میں بے معنی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ وجاحت حبیب اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے خفیہ سفارت کاری اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے اس میں آپ کا کردار موثر ہو سکتا ہے میں نے ان پر واضح کیا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں ، تاہم مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہوں اور اہل کشمیر کو حق خودارادیت د ے کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے گا ، تمام کالے قوانین کاخاتمہ کیا جائے ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور ریاست سے فوجی انخلاء کیا جائے ۔ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان جعلی انتخابات سے تو بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے آٹھ لاکھ فوج سنگینیں تانے سر پر کھڑی ہو تو کون ایسے انتخابات کے ناٹک کو تسلیم کرے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کا قتل عام کرکے بدترین دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ انسانی حقوق کے علم بردار اداروں کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرین ۔ بھارتی جمہوریت کا خونیں اورمکروہ چہرہ دیکھا جانا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر نرمی دکھانے سے بھارت کی درندگی کو مزید تقویت ملی ۔ مشرف نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ بھی کہہ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ ہم کشمیر کوپاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے ، میرے خیال میں حکومت پاکستان کا یہ بیان تقسیم ہند فارمولے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی پر بھی امریکی دباؤ کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔ پاکستانی حکمرانو ں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے جس حکمران نے بھی تقسیم ہند کے فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے بے وفائی کی وہ شرمناک انجام سے دوچار ہوا ۔ 1947 ء سے لے کر اب تک پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ تسلیم کرتا رہا ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی نعرہ پاکستان کو دیا۔ پاکستان نے ساٹھ برس میں تین جنگیں کشمیر پر لڑیں اور 1971 ء میں مشرقی پاکستان اسی تنازعے کی بنیاد پر الگ ہوا لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ حکومت نے پاکستان کے مسلمہ موقف میں نرمی دکھا کر بھارت کی درندگی ظلم و تشدد اور ناجائز موقف کو تقویت بخشی
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.