سرحد حکومت مالاکنڈ ڈویڑن میں دارالقضا اور ٹرائبل کورٹ قائم کرے
چیف جسٹس آف پاکستان کاپشاور میں وکلا سے خطاب
پشاور ‘ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ججز آئین کے تحت تعینات ہونے چاہیئں، سرحد حکومت مالاکنڈ ڈویڑن میں دارالقضا اور ٹرائبل کورٹ قائم کرے۔ پشاور میں وکلا اور اراکین بارسے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدلیہ میں ججوں کی کمی جلد ہی پوری کی جائے گی اور آئندہ چند روز کے بعد عدلیہ میں کرپشن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ ان کاکہنا تھا کہ عدلیہ میں جلد ہی نئی تقرریاں کی جائیں گی۔ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بینچ اور بار کے درمیان صرف رولز اینڈ لا کا کا رشتہ ہے۔ اگر آئین پر عمل درآمد نہ کیا جائے اور غیر آئینی باتیں شروع ہوجائیں تو ہماری محنت پر پانی پھر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ عوام کی عدلیہ سے بہت توقعات ہیں اور ایسا انصاف ہوناچاہیے جو نظر بھی آئے ۔ اور ایسا ن ہیں ہونا چاہیئے کہ ہم انصاف کے نام پر صرف مقدمات نمٹائیں ۔انہوں نے کہا کہ بینچ اور بار کا رشتہ صرف قانون کی حکمرانی ہے ، اگر ہم پرانی ڈگر پر چل پڑے اور ماورائے آئین اقدام کی باتیں ہوتیں تو وکلا کی جدوجہد رائیگاں چلی جائے گی ا ن کا کہنا تھا کہ اس وقت اہم مسئلہ ججوں کی تعیناتی ہے اور ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں ججوں کی کمی ہے اور ہماری کوشش ہے کہججوں کی کمی جلد دور کی جائے
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.