Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

سرینگر ‘ پے در پے ہلاکتوں کیخلاف وادی میں آج 7ویں روز بھی ہڑتال جاری رہی

February 7th, 2010 by awais · No Comments;  

سرینگر/7فروری /کے این ایس/۔۔پے در پے ہلاکتوں کیخلاف وادی میں آج 7ویں رو ز بھی ہڑتال جاری رہی جبکہ پائین شہر میں نافذ غیر اعلانیہ کرفیو میں آج ڈھیل دی گئی جس کے دوران لوگوں نے اشیائے خوردنی کی خریداری کی تاہم کل حریت کانفرنس (ع)کی طرف سے اقوام متحدہ دفتر تک مارچ پروگرام کے پیش نظر میرواعظ عمر فاروق سمیت کئی علیحدگی پسند لیڈران کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ محمد عبداللہ طاری سمیت نصف درجن لیڈران کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ مسلسل ہڑتال اور ناکہ بندی کے باعث شہر سرینگر میں بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور اسی بیچ آج کابینہ وزیر علی محمد ساگر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد زاہد فاروق کے گھر پہنچ گئی جہاں انہوں نے لواحقین دلایا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات عمل میں لاکر قاتلوںکو بخشا نہیں جائیگا جبکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے آج شام ڈویژنل انتظامیہ کی طرف سے ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق آج شہر سرینگر میں پے در پے ہلاکتوں کے واقعات نے صورتحال کو خراب کردیا ہے اور مظاہروں اور سنگبازی کے واقعات پرقابو پانے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے شہر کے کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ طو رپر کرفیو نافذ کردیاتھا جبکہ امتناعی احکامات کے تحت مائسمہ اور بٹہ مالو میں سخت ترین ناکہ بندی تھی۔ تاہم آج شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر مقامات پر ساتویں روز بھی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی۔ اس دوران آج ساتویں روز پائین شہر کے کرفیو زدہ علاقوں میں ڈھیل دی گئی اور کچھ دیر کیلئے ناکہ بندی میں بھی نرمی برتی گئی جس کے دوران کئی روز سے گھروں میں محصور لوگوں نے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء اسٹاک کیں۔ تاہم ناکہ بندی کے باعث کئی علاقوں میں مریض ادویات کیلئے تڑپنے لگے ہیں وہیں اسپتالوں کو جانے والے راستوں پر بھی چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ پائین شہر میں کچھ وقت کے لئے ڈھیل کے بعد دوبارہ ناکہ بندی کی گئی اور راجوری کدل، بہوری کدل، فتح کدل، صفاکدل، رعناواری، نوہٹہ، مہاراج گنج کے علاوہ درجنوں علاقوں میں فورسز و پولیس اہلکار کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار دیکھے گئے۔ اسی دوران پائین شہر کے کئی علاقوں سے لوگوں نے کے این ایس کو فون پر بتایا کہ آج پولیو مخالف دن کے موقعہ پر سی آر پی ایف اہلکاروںنے زبردست سختی برتتے ہوئے لوگوںکو بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلانے سے روکا اور انہیں ان مراکز کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پولیس کو اس میں مداخلت کرنی پڑی۔ تاہم کل حریت کانفرنس (ع) کی طرف سے پے در پے ہلاکتوں کیخلاف جلوس نکالنے اور اقوام متحدہ کے دفتر واقعہ سوناوار تک مارچ کرنے کے پروگرام کے پیش نظر شہر میں ایک مرتبہ پھر دفعہ144نافذ کردیاگیا ہے اور اس پروگرام کو ناکام بنانے اور امکانی مظاہروں اور سنگبازی کو روکنے کیلئے پولیس نے دیگر احتیاطی تدابیر کے تحت میرواعظ کی قیادت والی حریت کانفرنس کے کئی لیڈران کو ایک روز قبل ہی گھروں میں نظر بند کردیا جبکہ میرواعظ عمر فاروق آج چوتھے روز بھی گھر میں مسلسل نظر بند ہیں۔ اس کے علاوہ شوکت احمد شاہ کو بھی گھرمیں نظر بند رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے آج میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی کوشش کو بھی اس وقت ناکام کردیا جب پولیس نے بلال غنی لون، آغا سید حسن ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام سمیت کئی لیڈران کو گھروں میں نظر بند کردیا جبکہ فریڈم پارٹی کے محمد عبداللہ طاری سمیت کئی حریت لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان سمیت 3لیڈران کو پہلے ہی گرفتار کرکے کٹھوعہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس طرح سے پولیس اور فورسز نے پوری طرح سے شہر سرینگر کی کمان سنبھالی ہے جبکہ ڈویژنل انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ سے نمٹنے کیلئے پورے شہر میں پولیس کو تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دریں اثناء شہر سرینگر میں پیداشدہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے آج شام ڈویژنل انتظامیہ نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں کابینہ وزیر علی محمد ساگر، وزیراعلیٰ کے مشیر مبارک گل اور سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پولیس، آئی جی کشمیر، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ڈپٹی کمشنر سرینگر، ایس ایس پی سرینگر سمیت سی آر پی ایف اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ کے این ایس کے مطابق میٹنگ سے قبل آج صبح ٹھیک 10 بجے دیہی ترقی کے وزیر علی محمد ساگر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد برین نشاط کے جان بحق طالب علم زاہد فاروق کے گھر پہنچا جہاں انہوںنے لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ اطلاعات کے مطابق اس موقعہ پر وہاں لوگوں نے آزادی اور اسلام کے علاوہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے مطالبے کے حق میں نعرے بازی کی اور قاتلوں کو فوری طو رپر گرفتار کرکے انہیں سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا جس کے بعد علی محمد ساگر نے زاہد فاروق کے لواحقین اور دیگر لوگوںکو یقین دلایا کہ حکومت خامو ش نہیں بلکہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کی گئی ہے اور قاتلوں کو بخشا نہیں جائیگا۔ تاہم سات روز سے شہر میں جاری ہڑتال اور کرفیو کے نتیجے میں لوگ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہے اور آہستہ آہستہ شہر میں بحرانی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ ادویات کیساتھ ساتھ لوگوں کو اشیائے خوردنی کی کمی کا بھی سامنا ہے جبکہ سخت ترین ناکہ بندی کے باعث پائین شہر کی آبادی مسلسل گھروں میں محصور ہے۔ اس دوران آئی جی کشمیر مسٹر فاروق احمد نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ صورتحال پر پولیس کی کڑی نگاہ ہے اور آہستہ آہستہ حالات بہتری کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ سے نمٹنے کیلئے پولیس اور فورسز کو تیاری کی حالت میں کہا گیا ہے۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

You must log in to post a comment.