Urdu News-Online Urdu Newspaper

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

جنوبی افغانستان میں اتحادی افواج کا ویت نام جنگ کے بعد سب سے بڑے آپریشن کی تیاریاں مکمل ، طالبان بھی تیار

February 8th, 2010 by awais · No Comments;  

صوبہ ہلمند میں رواں ہفتے شروع ہونیوالے آپریشن میں امریکہ ،نیٹو اور افغانستان کے 15 فوجی ، گن شپ ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیارے حصہ لیں گے
آپریشن میں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی‘ میجر جنرل گورڈن میسنجر
ہماری بنیادی حکمت عملی طالبان کی قوت کو توڑ نا ہے، آٹھ سالہ جنگ میں یہ سب سے بڑا حملہ ہوگا‘ رابرٹ گیٹس
علاقے سے مقامی آبادی کا انخلاء شروع،طالبان بہت سرگرم اورمرجح اور ملحقہ علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں‘ عینی شاہد
دو ہزار جنگجو جنگ کے لیے تیار ہیں اور موت تک لڑیں گے،طالبان کمانڈرعبد اللہ نصرت
برطانیہ کو افغانستان میں نقصانات کے لیے تیار رہنا چاہیے‘ وزیر دفاع بوب اینزورتھ

کابل+لندن +واشنگٹن ‘ امریکہ ،نیٹو اور افغان افواج نے رواں ہفتے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ویت نام جنگ کے بعد سب سے بڑے آپریشن کی تیاری مکمل کر لی ہیں جس میں 15ہزار فوجی ،گن شپ ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیارے حصہ لیں گے۔ دوسری جانب طالبان بھی اس بڑی جنگ کے لئے تیار ہیں اور برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں اس کے فوجیوں کو زیادہ جانی نقصان پہنچ سکتا ہے۔برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان میں ڈائریکٹر کمیونیکیشن آپریشنز میجر جنرل گورڈن میسنجر نے کہا کہ صوبہ ہلمند پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے پندرہ ہزار اتحادی فوجی آپریشن مشترکہ میں حصہ لیں گے جس میں برطانیہ کی اسپیشل فورسز کے چارہزار فوجی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آپریشن میں زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ میجر جنرل گورڈن کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی۔ واشنگٹن میں امریکا کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ہماری بنیادی حکمت عملی یہ ہے کہ طالبان کی قوت کو توڑا جائے۔ صوبہ ہلمند کی اس کارروائی میں 15ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی حصہ لیں گے۔ اس حملے کو 40سال قبل ویت نام جنگ کے بعد سب سے بڑا آپریشن کہا جا رہا ہے، جس میں 1991 کی خلیج کی جنگ کے بعد سب سے بڑی فضائی کارروائی بھی کی جائے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران یہ سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ امریکی اور نیٹو حکام نے حملہ کی تاریخ تو نہیں بتائی ہے تا ہم ان کا کہنا ہے کہ وسطی ہلمند کے سب سے خطرناک علاقے میں حملے ایک ہفتے میں شروع ہوسکتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی جلد ہوگی۔ دوسری جانب طالبان بھی اس جنگ کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ علاقے سے مقامی آبادی کا انخلاء شروع ہوگیا ہے۔ طالبان کمانڈرز کاکہنا ہے کہ امریکا کی کسی بھی کارروائی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور امریکی فوج کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مرجح کا علاقہ نہیں چھوڑیں گے۔ علاقے کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ طالبان بہت سرگرم ہیں اورمرجح اور ملحقہ علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں۔ ضلع نادِ علی میں طالبان کمانڈرعبد اللہ نصرت کا کہنا ہے کہ دو ہزار جنگجو جنگ کے لیے تیار ہیں اور موت تک لڑیں گے۔ ادھر برطانیہ نے اپنے شہریوں کو اس جنگ کے خلاف ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں برطانوی فوجیوں کو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع بوب اینزورتھ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو افغانستان میں نقصانات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کو خطرے سے خالی نہیں کہا جاسکتا۔ ہلمند میں ہونے والے مشترکہ آپریشن میں 9ہزار 5 سو برطانوی فوجی بھی حصہ لیں گے

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

You must log in to post a comment.