نئی پالیسی پر صلاح مشورہ شروع ، بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان کو آگاہ کرے گا
معافی کی پالیسی سے آزاد کشمیر میں موجود 1200 کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندان واپس جا سکیں گے
بھارتی پالیسی ایک فریب ہے بھارت کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ، ترجمان حزب المجاہدین احسان الہی کی بات چیت
نئی دہلی + مظفر آباد ‘ بھارتی حکومت نے اعتماد کی بحالی کے اقدام کے طور پر کشمیری مجاہدین کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’ ہتھیار ڈالنے اور بحالی ‘‘ کے نام سے پالیسی تیار کر لی گئی ہے ۔پالیسی پر بھارتی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مشاورت شروع ہو گئی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کشمیر کے سلسلے میں اعتماد کی بحالی کا ایک نیا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کے تحت عسکریت سے وابستہ کشمیری نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو عام معافی دینے کا منصوبہ ہے۔ پالیسی کے تحت آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقو ںمیں مقیم کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندان واپس مقبوضہ کشمیر جا سکیںگے۔ انہیں محفوظ راہ داری فراہم کی جائے گی ۔بھارت اس نئے منصوبے سے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کرے گا ۔ پاکستان اور بھارتی خارجہ سیکرٹری کے سطح کے مذاکرات میں بھارت یہ نئی پالیسی پاکستان کے سامنے رکھے گا تاکہ پاکستان کا تعاون حاصل کیاجائے بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر اور دوسرے علاقوں میں مقیم کشمیری مجاہدین اور ان کے خاندانوں کی شناخت اور تصدیق کے عمل میں تعاون کرے ۔مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے نئی دہلی میں بھارتی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کی کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیری واپس آ سکیں گے ۔ مجاہدین ہتھیار ڈال کر معمول کی زندگی گزار سکیں گے ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے بھی مذکورہ پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی پر مقبوضہ کشمیر حکومت سے بھی مشاورت ہو رہی ہے ۔بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے دو سال پہلے مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے سلسلے میں ورکنگ گروپ قائم کئے تھے ایک ورکنگ گروپ کے سربراہ حامد انصاری تھے ۔ حامد انصاری نے اس بارے میں بتایا کہ ہم نے اصولی طور پر اس پالیسی سے اتفاق کر لیا ہے تاکہ مظفر آباد میں مقیم مجاہدین واپس آسکیں اور انہیں عام معافی ملے ۔ اخبار کے مطابق نئی پالیسی کے تحت مجاہدین اور ان کے خاندانوں کو لائن آف کنٹرول کے کراسنگ پوائنٹس چکوٹھی ، چکندرا باغ ، راولا کوٹ میں آ کر سرنڈر کرنا ہو گا ۔ ان مقامات پر لائن آف کنٹرول کے مقبوضہ کشمیر سائڈ پر بھارتی خفیہ اداروں ’’ آئی بی ‘‘ ، ’’ را ‘‘ اور جموں کشمیر پولیس کے کیمپ ہوں گے ۔ سرنڈر کرنے والوں کو ایک ماہ تک بھارتی اداروں کی تحویل میں تفتیش کے عمل سے گزرنا ہو گا جبکہ بعد ازاں ہر ہفتے مقامی پولیس سٹیشن میں حاضری دینا ہو گی ۔بھارتی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مظفر آباد میں 800 سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 1200 سے زیادہ ہے ۔اخبار کے مطابق بھارتی حکومت نے 2005 اور 2007 ء کے دوران بھی سرنڈر پالیسی کا اعلان کیا تھا تاہم سرنڈر ہونے والے مجاہدین کی طرف سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پر قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے پالیسی واپس لے لی گئی تھی۔ نئی پالیسی کے سلسلے میں ان دونوں بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر مشاورت کر رہی ہے ۔جن نوجوانوں نے آزاد کشمیر اور پاکستان میں شادیاں کرلی ہیں ان کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رجوع کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار مجاہد تنظیم حزب المجاہدین نے بھارتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کشمیری مجاہدین بھارت کے کسی فریب میں نہیں آئیں گے۔ بھارت کی نئی پالیسی دراصل مجاہدین اور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ حزب المجاہدین کے ترجمان احسان الہی نے نئی بھارتی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ثناء نیوز کو بتایا کہ ماضی قریب میں مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے دورمیں ایسی ہی پالیسی بنائی گئی تھی ۔ کچھ نوجوان بھارت کے اس جھانسے میں آ گئے تھے اب ان کی حالت قابل رحم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نئی پالیسی میں عملاً کچھ نہیں ہے اور نہ ہی کشمیریوں کی ہمدردی میں کچھ ہورہا ہے۔ ماضی قریب میں جن لوگوںنے سرنڈر کیا تھا وہ اب پچھتا رہے ہیں اس لیے کہ سرنڈر نوجوانوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک ہو رہا ہے ۔ ان سے کئے وعدے پورے نہیں کئے گئے ۔ اب کی بار جس نئی پالیسی کی باتیں ہو رہی ہیں وہ دراصل کشمیری عوام اورمجاہدین میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہوا تو یہ اس کی اپنی غلطی ہو گی۔ بھارت تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.