بھارت کے ساتھ جارحانہ سفارتی پالیسی اپنائی جائے ،پاکستان معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے
برجیس طاہر ، ماروی میمن ، ملک شاکر اعوان ، پروین مسعود بھٹی اور شیخ آفتاب احمد کا بھارت کی جانب سے پاکستان کے لیے پانی کی ناکہ بندی سے متعلق تحریک التواء پر بحث کے آغاز میں اظہار خیال
اسلام آباد ‘ قومی اسمبلی میں جمعہ کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریاؤں پر بگلہیار ڈیمِ ، کشن گنگا ڈیم اور وولر بیراج کی تعمیر کے نتیجے میں پاکستان کے لیے پانی کی ناکہ بندی اور کمی سے متعلق تحریک التواء پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے ۔ اراکین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت سے اس کی آبی جارحیت کے بارے میں دو ٹوک انداز میں بات نہ کی گئی تو ملک ریگستان میں تبدیل ہو جائے گا۔ دریاؤں میں دھول اڑ رہی ہے ۔ ملک زندگی و موت کے اس مسئلے کے حوالے سے بھارت کے ساتھ جارحانہ سفارتی پالیسی اختیار کی جائے ۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری برجیس طاہر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان سے 70 میل کے فاصلے پر ڈوڈہ گاؤں میں سوال کوٹ میں 2 ارب ڈالر کی لاگت سے نیا ڈیم بنا رہا ہے جو بگلہیار ڈیم سے 13 گنا زیادہ بڑا ہو گا ۔ راوی اور بیاص میں ریت آ رہی ہے جہلم اور چناب میں دو سالوں سے پانی نہیں ہے ۔ اس معاملے میں حکومت جرات کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے ۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے نام پر اپنے دریاؤں سے دستبردار ہوچکا ہے ۔ انہوںنے تحریک التواء دو گھنٹوں کی بحث کے بعد ختم ہو جائے گی ۔ کیونکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر بھی دو گھنٹوں کی بحث ہوئی ۔ ایوان میں قرار داد تک منظور نہیں ہو سکی ۔ حکومت قوم کی بیٹی کو فراموش کر رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر جائے ۔ حکمران کس بات سے ڈرتے ہیں ایوان میں کوئی پانی کے مسئلے کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں ۔ بھارتی سوال کوٹ بننے کی صورت میں لڑائی سرحدوں پر نہیں بلکہ پانی پر جنگ ہو گی ۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو اپنے مطابق حل کر لیا ۔ ہمارے حکمران خارجہ پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال چکے ہیں ۔ بھارت نے پانی کے معاملے پر دہشت گردی شروع کر دی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ق کی راہنما ماروی میمن نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر بھارت سے جنگ خارج از امکان نہیں ہے۔ بھارت آبی جارحیت کا مرتکب ہو چکا ہے ۔ ملک شاکر اعوان نے کہا کہ آنے والے وقت میں پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا ۔ پاکستان جس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو ا اسی دوران بھارت نے چناب ، نیلم ، جہلم پر ڈیم بنائے ۔ اسرائیلی انجینئرز کی مدد لی ۔ ملک و قوم کو ہمارے اپنے حکمرانوں نے مشکل میں ڈالا ہے ۔ بھارت سے احتجاج کی بھی جرات نہیں ہوئی ۔ دریائیں خشک ہو رہے ہیں ۔ شہروں میں پینے کے پانی کی بھی قلت ہو گی ۔ ڈیموں کے بارے میں زیر التواء منصوبوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے ۔ معیشت زراعت پر مشتمل ہے ۔ موجودہ حالات میں اس ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ پارلیمنٹ اس معاملے پر متحد ہو اور بھارت سے دو ٹوک انداز میں بات کی جائے ۔ پاکستان کے اپنے حق کے حوالے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کی پروین مسعود بھٹی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں پانی اور بجلی کے بحران شدت اختیار کر رہے ہیں ۔ بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ زیر کاشت زمین بنجر اور غیر آباد ہو رہی ہیں ۔ کالا باغ ڈیم ملکی مفاد میں ہے اس ڈیم پر 80 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔امریکا سے بھارتی آبی جارحیت پر بات کی جائے ۔ ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ ملک میں سالانہ 1500 کیوبک فٹ پانی رہ گیا ہے ۔ بدترین خشک سالی کا خدشہ ہے ملک کو ریگستان بننے سے بچانے کے لیے بھارت سے دو ٹوک الفاظ میں بات کی جائے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے چیف و ہیپ شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ ملک کی زمین ان پر تنگ ہو جائے گی ۔ پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بھارت کے ساتھ ضرور جنگ ہو گی ۔ کھل کر بھارت سے بات کی جائے کہ اپنے حقوق پر ڈالہ نہیں ڈالنے دیں گے ۔ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑاجائے ۔ مسئلہ کشمیر کی طرح پانی کا مسئلہ بھی سنگین بن جائے گا وقت کو ہاتھ سے نہ نکلنے دے



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment