دونوں ممالک وقت ضائع کئے بغیر اس بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کرکے اس مسئلے کا حل نکالا جاے
سری نگر۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سے کشمیریوں کو دو رکھ کر اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔عوامی رابط مہم کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے محمد یاسین ملک دیگر قائدین و اراکین فرنٹ کے ہمراہ شانگس اچھہ بل روانہ ہوئے ۔اس موقعہ پراگر چہ انہیں عوام سے دور رکھنے کیلئے ہرطرف پولیس کی ایک بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ تاہم اس کے باوجود فرنٹ قائدین شانگس پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ ان کی آمد پرلوگوں نے آزادی ،شہدا اور فرنٹ کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے فرنٹ چیئرمین کو جلوس کی صورت میں مین چوک پہنچایا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ آج اقوام عالم اس حقیقت سے روشناس ہوچکا ہے کہ برصغیرمیں پائیدار امن کیلئے لازم وملزوم ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ لبریشن فرنٹ کا یہ واضح موقف ہے کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات ہی میں ہے اوراس سلسلے میں ہنددستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی ایک خوش آئندہ قدم ہے لیکن جب کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اسکا اصل فریق جو اس کا مالک ہے اور جس نے اپنے بیٹے اس پر قربان کردیئے اور جن کا ایک ایک فرد قربانی کا مجسمہ ہے،’’ان کو الگ رکھ کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلا جاسکتا ہے،اسلئے یہ دونوں ممالک وقت ضائع کئے بغیر اس بات چیت میں کشمیری لوگوں کو شامل کرکے اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ برصغیر میں حقیقی امن قائم ہو اور ہندوستان پاکستان اور کشمیری لوگ ایک نئے مستقبل کی شروعات کر سکیں‘‘۔یاسین ملک نے کہا ربیع الاول کے ان متبرک ایام میں ہم اپنے آپ کا محاسبہ کرکے اپنے آپکو رسول پاک کی تعلیمات کے مطابق ڈالے اور جو ہماری روحانی قدریں پامال ہوچکی ہیں، وہ بحال ہوجائیں گی ۔ملک نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زرخیز زمین اور قدرتی جنگلات کا تحفظ یقینی بنائیںتاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھک مری اور دیگر آسمانی آفات سے بچ جائیں۔جلسے میں یاسین ملک سے پہلے ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے بھی خطاب کیا جبکہ فرنٹ چیئرمین کے ہمراہ اور لوگوں کے علاوہ شوکت احمد بخشی ، نورمحمدکلوال، شیخ عبدالرشید ،شیخ نظیر احمد،شیخ معراج الدین ،محمد صدیق گورو،شیخ محمد اسلم ،بشیر کشمیری اور صدر ضلع اسلام آباد محمد اسحاق گنائی بھی شامل تھے۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment