Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

نواز شریف گیلانی ملاقات ‘ آئندہ تعلقات کا انحصار حکومتی اقدامات پر ہے ۔۔نواز شریف

February 22nd, 2010 by awais · No Comments;  

٭۔ ۔ ۔ 17ویں ترمیم کے خاتمہ اور ایوان صدر و پارلیمنٹ کے درمیان بیلنس آف پاور کے بارے میں خوشخبری 23 مارچ سے پہلے عوام کو دیں گے
٭۔ ۔ ۔ میثاق جمہوریت اور پارٹی منشور پر عمل کریں گے‘ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام اور این آر او فیصلہ پر آئین کے مطابق و سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائیگا‘ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی چیف جسٹس کی سفارشات پر عمل کیا گیا
٭۔ ۔ ۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی بنانے پر اتفاق‘ آئی ایم ایف سے بھی شرائط میں نرمی کیلئے کہیں گے‘ کوئٹہ اور پنجاب پر ڈرون حملے نہیں ہونگے: وزیراعظم
٭۔ ۔ ۔ ایوان صدر سے تعلقات خراب ہوئے‘ آئندہ تعلقات کا انحصار حکومتی اقدامات پر ہے‘ کابینہ سے مجبوراً علیحدگی اختیار کی
٭۔ ۔ ۔ امریکی عہدیداروں نے یقین دلایا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ عوامی جذبات کے تحت حل کرنے کیلئے جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کیا جائے گا
٭۔ ۔ ۔ آمر دور میں بنائے گئے ریفرنسوں میں صداقت ہوتی تو جھوٹے طیارہ سازش اور ہیلی کاپٹر کیس کا سہارا نہ لیا جاتا: نوازشریف

لاہور( ثناء نیوز )آئین میں 17 ویں ترمیم کے خاتمہ اور میثاق جمہوریت پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کی سفارشات کا 23 مارچ سے قبل اعلان کردیا جائے گا۔ ایوان صدر سے مسلم لیگ (ن) کے تعلقات کا انحصار حکومت کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوگیا۔ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ عوام کے جذبات کے مطابق حل کرنے کیلئے امریکی حکومت جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کرے گی۔ پرویز مشرف کو گارڈ آف آرنر پیش کر کے عوام کی توقعات پر پانی پھیر دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف سے ان کی رائیونڈ کی رہائشگاہ پر 50 منٹ سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف‘ میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز اور سینیٹر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ 23 مارچ کو آئی ہے لیکن میں نے کمیٹی سے کہا ہے کہ اس سے بہت پہلے عوام کو خوشخبری دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اب تک 50 سے زائد اجلاس کرچکی ہے اور اس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے نمائندوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کی قیادت خود موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں میاں نوازشریف نے میثاق جمہوریت پر عمل اور عوام کو ریلیف دینے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر دو سابق وزراء اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے دستخط کئے تھے۔ پیپلزپارٹی اس پر عملدرآمد کرنے میں مخلص ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر ہی عملدرآمد کرلیں تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے دونوں جماعتوں کے تھینک ٹینکس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا ہے جو ملکی وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفارشات دے گی کہ عام آدمی کو کیسے ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے بھی بات کی جائے گی کہ اس کی کڑی شرائط کے پاکستانی عوام متحمل نہیں ہیں اس لئے ان پر نظرثانی کی جائے۔ جبکہ میں نے فنانس منسٹر سے بھی کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے سے متعلق اپنی سفارشات دیں۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت ہی ایسا ضابطہ ہے جس پر عملدرآمد سے اداروں کو مضبوط اور مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے گا اور رول آف لاء اور ملکی آئین کے تحت معاملات کو حل کرنے کے علاوہ سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ اور گلوبل معاشی صورتحال پاکستان پر بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ ہم نے نہ صرف جانی قربانیاں دیں‘ بہت سے لوگ اور جوان زخمی یا معذور ہوئے بلکہ معاشی طور پر بھی بحران کا شکار ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے سیاسی قوتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ بھارت سے تعلقات کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 25 فروری کو دونوں ملکوں کے فیڈرل سیکرٹریز کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس سے بات آگے بڑھے گی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ حکومت اسے ہر فورم پر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پنجاب سے گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ گرفتاری سابق دور حکومت میں ہوئی تھی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ ڈرون حملے انتہاپسندوں اورمقامی قبائل کو ملانے میں مدد دیتے ہیں جنہیں ہم نے الگ کیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہمیں ڈرون ٹیکنالوجی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کوئٹہ پر بھی ڈرون حملوں کا اندیہ دیا تھا جسے میں نے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ یا پنجاب پر ڈرون حملے نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ میں لائیں گے۔ وزیراعظم نے میاں نوازشریف اور صدر آصف علی زرداری کے پتلے جلانے کے واقعات کی مذمت اور اسے سیاسی کارکنوں کی ذہنی ناپختگی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے خلاف نیب میں چلائے جانے والے کیسوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر میاں نوازشریف نے کہا کہ اب ان کے ایوان صدر سے پہلے جیسے تعلق نہیںرہے جبکہ آئندہ تعلقات کا انحصار ہم سے کئے گئے وعدوں‘ معاہدوں‘ میثاق جمہوریت اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ عوام اس وقت انتہائی معاشی بحران کا شکار ہیں جنہیں فوری ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میثاق جمہوریت پر عمل اور 17ویں ترمیم کا خاتمہ کردیا جاتا تو بہت سے مسائل حل ہوچکے ہوتے لیکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو گارڈ آف آرنر دیکر رخصت کرنے کے اقدام نے انتخابات کے بعد عوام کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم س کہا ہے کہ ملک میں گڈ گورنس قائم کی جائے اور حکومت کو کرپشن سے پاک کیا جائے۔ بدقسمتی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت یہ مسائل پرویز مشرف کے دیئے ہوئے ہیں جس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد قوم کو سات نکاتی ایجنڈا دیا لیکن آٹھ سال بعد قوم کو اندھیروں میں دھکیل کر چلا گیا لیکن اس آمر کو بلا کر کسی نے نہ پوچھا کہ اس نے بجلی بنانے کے پراجیکٹ کیوں نہ بنائے۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک اور امریکی سفیر نے حالیہ ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ امریکہ جلد حکومت پاکستان سے رابطہ کر کے اس مسئلہ کو پاکستان کے عوام کے جذبات کے تحت حل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے ہمیں حکومت میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ پھر ہمیں حکومت سے باہر آنے کا بھی شوق نہیں تھا لیکن چیف جسٹس کو بحال اور دیگر معاہدوں پر عمل نہ کیا گیا جس کے باعث وزارتیں چھوڑنا پڑیں۔ جو اقدام دو سال پہلے ہو جانے چاہئیں تھے ابھی تک نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این آر او پر عدالتی فیصلہ پر من و عن عمل کیا جائے۔ صوبوں میں پانی کے تنازع پر انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ اس مسئلہ کو صوبوں کی سطح پر حل کرلیا جائے اور وفاق اپنا کردار ادا کرے۔ اس سے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میاں برادران کے خلاف نیب کیسوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ میاںشہبازشریف نے کہا کہ یہ جھوٹے کیس مشرف نے بنائے تھے جن کے بارے میں اعلیٰ عدالتیں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کیسوں میں صداقت ہوتی تو مشرف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر کیسوں کا سہارا نہ لینا پڑتا تاہم موجودہ حکومت بھی یہ کیس چلا لے۔ ہم عدالتوں میں سامنا کریں گے۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو