Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

پاک بھارت حالیہ مذاکرات بے معنی ہیں جن میں محض دہشت گردی پر بات ہو گی ، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری

February 24th, 2010 by Editor · No Comments;  

عالمی برادری خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہے تو بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباؤ ڈالے

اسلام آباد۔آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم وجموںوکشمیر پیپلزمسلم لیگ کے صدر بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بدھ سے شروع ہونے والے مذاکرات اس لحاظ سے بے معنی ہیں چونکہ وہ جامع مذاکرات نہیں ہیں بلکہ بھارت کی ڈکٹیشن پر محض دہشت گردی کی حد تک بات چیت ہوگی۔اسطرح ایجنڈے پر کشمیر سمیت اہم اور بنیادی ایشوز شامل نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں اپنی رہائش گاہ پر اخبار نویسوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ اگرچہ ہم کسی قسم کی بات چیت کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے اور ان مذاکرات کے بھی خلاف نہیں ہیں تاہم جن مذاکرات سے کچھ حاصل نہ ہو ان کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ 9/11 کے بعد انٹرنیشنل کمیونٹی کے دباؤ میں آکر بھارت نے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں کشمیر سمیت تمام کور ایشوز پر بات ہوئی تھی لیکن ممبئی دھماکوں کا بہانہ بنا کر بھارت نے جامع مذاکرات کا سلسلہ نہ صرف ختم کردیا بلکہ علاقے میں کشیدگی پیدا کردی اور بھارتی آرمی چیف کے دھمکی آمیز بیانات آنے لگے اسطرح بھارت کے اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔تاہم بھارت اب دکھاوے کے لئے بات چیت تو کررہا ہے لیکن بھارت امن کے لئے نہ تو کبھی مخلص رہا ہے اور نہ ہی سنجیدہ بلکہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر ہمیشہ قائم رہا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری اس خطے میں قیام امن کے لئے واقعی سنجیدہ ہے تو وہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دباؤ ڈالے کیونکہ اس ریجن میں امن مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی منسلک ہے بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا کہ کشمیریوں نے باسٹھ برس میں بہت تشد د دیکھا ہے اور بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اب یقینی طور پر وہ امن چاہتے ہیںاس لئے ہم کسی قسم کی بھی بات چیت کے تو خلاف نہیں ہیں تاہم ہمارا یہ واضح موقف ہے کہ اس ریجن کا اصل مسئلہ کشمیر ہے اور مسئلہ پر بات چیت کے لئے اس مسئلہ کے اصل فریق کشمیری عوام کومذاکرات میں شامل کیا جائے۔تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔کیونکہ دوطرفہ مذاکرات سے نہ تو پہلے کوئی نتیجہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی آئندہ سامنے آئے گااور اس مسئلے کے حل نہ ہونے سے نہ ہی امن کی طرف کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو