سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو این آر او کے وارثین تھے ‘ سینیٹر ایس ایم ظفر

وارثان موجود نہیں ہیں اس لیے این آر او کو دفنانے والا کوئی نہیں مل رہا ہے
عوام کا معیار زندگی اور گڈ گورننس بہتر نہ بنانے کے نتیجے میں مداخلت کا امکان ضرور موجود رہے گا
عدلیہ پر عوامی رنگ غالب ہے ‘ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لئے عدلیہ نے کھٹن راستے کا انتخاب کیا ہے
چین آف کمانڈ کے تحت حکم بجا لانے والے ادارے ہی کو اسٹیبلشمنٹ میں زیادہ اثرو نفوذ حاصل ہے
کمیٹی نے ججوں کی تقرری کے معاملے کو ملغوبہ بنا دیا گیا ہے ‘ کمیٹی کی کارروائی کو پردہ راز میں رہنا چاہئے
ممتاز آئینی و قانونی ماہر کا انٹرویو

اسلام آباد‘ ممتاز آئینی و قانونی ماہر سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو این آر او کے وارثین تھے کیونکہ وارثان موجود نہیں ہیں اس لیے این آر او کو دفنانے والا کوئی نہیں مل رہا ہے عوام کا معیار زندگی اور گڈ گورننس بہتر نہ بنانے کے نتیجے میں مداخلت کا امکان ضرور موجود رہے گا۔ گزشتہ روزایک انٹرویو میں سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی وجہ سے سیاست تضادات کا شکار ہے این آر او کے معاملے میں غیر ملکی بھی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ رہے اور این آر او کے عمل میں شامل تھے۔ بلکہ برطانوی ہائی کمشنر تو اس حوالے سے مکمل طور پر متحرک تھے ۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کے لیے اس وقت کے انٹیلی جنس بالخصوص آئی ایس آئی کے سربراہ کوبھی اعتماد میں لیا گیا تھا ہمیشہ ملکی اسٹیبلشمنٹ میں فوج کا اثر ونفوذ بڑھتا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ میں وہی طاقتور ہوتا ہے جس ادارے کا نظم ونسق اچھا ہو ادارہ مضبوط اور چین آف کمانڈ ہی کا حکم چلتا ہو یہ ادارہ اپنے چین آف کمانڈ کی وجہ سے دوسرے اداروں پر آسانی سے حاوی ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سب سے قابل اعتماد اور بااثر ادارہ سیاسی تھا کیونکہ شروع میں سیاستدانوں کو حکومت چلانے میں مشکلات کا سامنا تھا سیاسی ادارہ کمزور تھا جس کی وجہ سے اسے زیادہ انحصار بیورو کریسی پر کرناپڑا تھا۔ اس لیے سیاستدان کمزور ہوتے چلے گئے ۔ ا ور پھر بیورو کریسی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کا اثرونفوذ بڑھتا گیا۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت ظاہر نہیں ہوتی سامنے نہیں آتی اس لیے یہ شیڈو کی صورت میں موجود رہتی ہے ۔ نواز شریف کی سیاسی ابتداء ہے جنرل جیلانی کی جبکہ مسلم لیگ (ق) سابق فوجی صدر کے معاون خصوصی طارق عزیز کی مدد سے قائم ہوئی تھی جب تک ملک میں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت قائم نہیں کریں گی ان جماعتوں پر جمہوری انداز کی چھاپ نہیں ہوگی ملک میں جمہوریت محض ڈھونگ رہے گی۔ ماضی میں عدلیہ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ میں اس وقت کے وزیراعظم بھی شامل تھے معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے حاوی ہونے کی وجہ سے 9 مارچ 2007 کا واقعہ رونما ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سعودی عرب کی معاونت سے واپس آئے تھے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی آئینی کمیٹی میں طے پانے والے معاملات پردہ راز میں رہنے چاہئیں تھے۔ کیونکہ اب تو کمیٹی کے فیصلے میڈیا میں آنا شروع ہو گئے ہیں اس لیے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کمیٹی میں ججوں کی تقرری کے معاملے کو ملغوبہ بنا دیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی چیف جسٹس آف پاکستان کے عشائیہ میں شرکت کی اطلاع کسی نہ کسی کو ضرور تھی ۔ کچھ لوگ ضرور اس سے آگاہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عدلیہ کا رحجان عوامی عدالت کا ہے وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہتی ہے یقینا یہ دشوار اور کٹھن راستہ ہے ہم عدلیہ کے لیے دعا گو ہیں عوامی عدالت کا امکان اس وقت بڑھتا ہے جب ملک میں کرپشن موجود ہو ۔ایسی صورت حال میں متصادم کی کیفیت موجود رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کے اصل وارثان پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو تھیں وہ دونوں موجود نہیں ہیں اس لیے این آر او کے وارثان نہیں ہیں ۔

Share

Leave a Reply