بھارت افغانستان میں پراسرار سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ سابق گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل(ر) علی جان محمد اورکزئی

میر پور ‘ سابق گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی جان محمد اورکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کا اولین مسئلہ ہے کشمیر کی آزادی و پاکستان سے الحاق ہر پاکستانی کا خواب ہے شدت پسندوں نے پاکستان کے امیج کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے ۔ بھارت افغانستان میں پراسرار سرگرمیوں میں مصروف ہے ۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے ہونے چاہئیے ۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین حالات سے دو چار ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چوہدری بشیر شریف ایڈووکیٹ ، ہمایوں زمان مرزا و حلقہ کھڑی سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں ۔ سابق گورنر علی جان محمداورکزئی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطہ میں پائیدار امن کی گنجائش نہ ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے و بے گناہ کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کیے ہوئے ہے ۔ پاکستان کے عوام کا ایمان ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور پھر قائدا عظم محمد علی جناح کی تعلیمات بھی کشمیریوں و پاکستان کے رشتہ کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے اور وہ افغانستان سے جانے کا ٹائم فریم بھی دے چکا ہے آئندہ 18 ماہ انتہائی کٹھن ہیں ۔ ہمیں شدت پسندوں و عام پٹھانوں میں تفریق کرنی چاہیئے ۔ قبائلی علاقے کے عوام پاکستان کے بلا معاوضہ سپاہی کا کردار ادا کررہے تھے مگر بدقسمتی سے ایسے حالات پیدا کردئیے گئے کہ قبائلیوں کے دل میں نفرت پیدا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی دشمن ہے جوکہ بھارت ہے ۔ مزید دشمن پیدا کرنے کی ہرگز گنجائش نہ ہے حکومت پاکستان کو اپنی صفوں کا از سرنو جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے

Share

2 Comments to "بھارت افغانستان میں پراسرار سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ سابق گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل(ر) علی جان محمد اورکزئی"

  1. صفیر انصاری's Gravatar صفیر انصاری
    February 28, 2010 - 10:38 am | Permalink

    جناب علی جان محمداورکزئی کے خیالات سے تو یہ لگتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے دشمن وہ خود ہیں ۔ انتہا سپندوں پر لعن طعن کر رہے تھے تو مجھے لگا کہ وہ شاید ٹھیک کہ رہے ہیں لیکن جب یہ بات کھلی کہ وہ انتہا پسند کس کو کہ رہے ہیں تو ظاہر ہو اکہ آں جناب کی پاکستانی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ خود قبول کرچکے ہیں اپنے اس بیان میں کہ ۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین حالات سے دو چار ہے۔ تو اس میں کس کا قصور ہے؟ پاکستان آج اگر سب سے زیادہ پریشان ہے تو اس کی دو وجہیں سب سے اہم ہیں – ایک تو دہشت گردی اور دوسری طالبانیوں کا قہر۔ غریبی اور نا خواندگی تو پہلے سے چلی آ رہی وجہیں ہیں۔
    افواہ پھیلانے کا کوئی انسٹیٹیوٹ ہے شاید پاکستان میں جہاں سے طرح طرح کے لوگ تربیت حاصل کر کے دنیا بھر میں افواہیں پھیلا تے رہےں ہیں۔ یہ افواہ کہ ہندوستان افغان میں کسی پر اسرار سرگرمی میں مصروف ہے کتنی مضحقہ خیز ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ افغان میں طالبانیوں کی وجہ سے جس طرح کی تباہی مچی تھی اور اس سے نجات دلانے کے نام پر جو کچھ ہوا اس سے افغانیوں کی نسل کی نسل تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ اب کہیں جا کر کچھ ملکوں کی مدد سے وہاں کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہندوستان کا اس ملک سے گہرا رشتہ رہا جس کی بنیاد پر افغان میں چل رہے بیشتر راحت کے کاموں میں ہندوستان کی طرف سے پوری مدد کی جا رہی ہے تو پاکستان کو پسند نہیں آرہا ۔ اور اس کو پر اسرار سرگرمی کہ کر پاکستان کے لوگ اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ وہی طالبانی جو افغان کی اس حالت کا پہلے ذمہ دار ہے پاکستان میں پناہ گزیں ہوئے اور اب پاکستان کے بیشتر علاقوں میں پھیل کر وہاں کی تباہی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ آج کی تاریخ میں افغان میں پاکستانیوں کی جو تصویر ہے وہ کسی لٹیروں سے کم نہیں۔ لوگ اگر یہ جان لیں کہ ہمارے پاس کوئی پاکستانی کھڑا ہے تو اپنے سامان کی نگرانی پر دھیان مرکوز کر لیتے ہیں۔ موصوف کہتے ہیں کہ افغان کے ساتھ رشتے بہتر ہونے چاہیے۔ تو بھائی اس کے لیے اپنی شبیہ بھی تو بہتر بنانی ہوگی۔ رشتہ یوں ہی تو نہیں بنتا؟ آج اگر افغان میں کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا ہندوستان سے ہے تو ‘‘لعل جاں ،’’ لعل جاں ’’ کہتے نہیں تھکتا۔ ایسا یوں ہی تو نہیں ہوا ہوگا نا۔
    جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو اس پر کچھ سرحدی علاقوں میں کس کا غیر قانونی قبضہ ہے کو ئی بتایے بھلا! ہندوستان کو اپنا دشمن اولین کہنے والے حضرات یہ کان کھول کر سن لیں کہ کہ اگر ہندوستان بھی پاکستان کو اپنا دشمن اولین مان لے تو صورت کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود علی جان محمداورکزئی جیسے لوگ ہوں گے۔

  2. شاہد مسعود احمد's Gravatar شاہد مسعود احمد
    March 1, 2010 - 1:25 am | Permalink

    بھارت والے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تمام حربےاستعمال کر رہے ہیں‌ اک ھم ہیں‌کہ اردگرد کی خبر ہی نہیں رکھتے ھم ایک دوسرے کی ٹانگیں‌ کھینچے لگے ہوئے ہیں ھم سب کو مل کر اپنے سے زیادہ طاقتور کا مقابلہ کرنا ھے تو اتفاق و اتحاد کی اہمیت محسو س کرنا ھوگی

Leave a Reply