آئین کے مطابق صدارتی الیکشن کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا
چیف الیکشن کمشنر نے 7صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا
اسلام آباد ‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر آصف علی زر داری کی اہلیت کے خلاف دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) حامد علی مرزا نے سات صفحات پر مشتمل صدر زر داری کی اہلیت کے حوالے سے مقدمہ کا فیصلہ جاری کیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے جس کے مطابق اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا جاتا ہے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل41 کے تحت آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ صدر کے الیکشن کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور اگر پارلیمنٹ کے کسی رکن کی نا اہلی کا ریفرنس دائر کر نا ہو تو وہ سپیکر قومی اسمبلی یا چیئر مین سینٹ کے پاس دائر کیا جاتا ہے اور یہ چیئر مین سینٹ یا سپیکر قومی اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وہ اس رکن کی نا اہلی کے لئے ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جب صدر کا الکینش ہو رہا تھا اس وقت صدر کی اہلیت کے خلاف کوئی اعتراض داخل نہیں کیا گیا اور نہ ہی درخواست گزار صدر کے امیدوار تھے اس لئے درخواست گزار صدر کی اہلیت کو چیلنج کر نے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو صدر زر داری کی سزا کے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا تھا جو پریس یا انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا اس لئے کوئی ٹھوس ثبوت صدر زر داری کی سزا سے متعلق اس بنا پر الیکشن کمشنر نے ریفرنس کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا ہے۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment