پورٹ آف اسپین ۔ پورٹ آف سپین میں کھیلے جانے والے ٹوئنٹی 20 میچ میں زمبابوے کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو چوبیس رنز سے ہرا دیا۔ زمبابوے کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے انیس اعشاریہ پانچ اووروں میں ایک سو پانچ رنز بنائے۔ جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم مقررہ بیس اووروں میں صرف اناسی رنز بنا سکی اور میچ چوبیس رنز سے ہار گئی۔ یہ دونوں ٹیموں کے مابین ہونے والا پہلا ٹوئنٹی 20 میچ تھا اور زمبابوے کا ٹیسٹ کرکٹ کی طرف واپسی کا ایک اہم قدم تھا۔ لیکن خود زمبابوے کے کھلاڑیوں کو یہ توقع نہیں تھی کہ یہ اس قدر شاندار میچ ثابت ہو گا۔ زمبابوے کی اننگز کا آغاز اتنا اچھا نہیں تھا اور صفر کے سکور پر اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ تاہم بعد میں اوپنر ہیملٹن ماساکدزہ کے چوالیس رنز کی بدولت ٹیم اپنا سکور ایک سو پانچ رنز تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکی۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے ڈیرن سمی نے چھبیس رنز دے کر پانچ اور سلیمان بین نے چھ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھا بالر کی تیسری اور چوتھی بہترین بالنگ ہے۔ سلیمان بین نے ووسِی سِبانڈا کو میچ کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کر دیا اور اپنے دوسرے ہی اوور میں ٹیبو اور میٹسکنیاری کی وکٹیں حاصل کیں۔ ہیملٹن ماساکدزہ نے چوالیس رنز بنا کر زمبابوے کی اننگز کو مکمل تباہی سے بچایا اور اننگز کے آخری اووروں میں چِگمبورہ نے انیس گیندوں پر چونتیس رنز بنا کر ٹیم کو کچھ امید دلائی۔ تاہم زمبابوے کی پوری ٹیم انیس اعشاریہ پانچ اووروں میں ایک سو پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ویسٹ انڈیز کی اننگز کا آغاز اچھا تھا اور ایڈرین براتھ اور چندرپال نے پہلے چھ اووروں میں اکیس رنز بنا لیے تھے۔ لیکن جیسے ہی براتھ کا آؤٹ ہونے ٹیم کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ کریمر نے گیارہ رنز کے عوض تین اور لیمب نے چودہ رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ چندرپال نے ٹیم کے سکور کو آگے بڑھانے کی سر توڑ کوشش کی اور جب وہ بیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ٹیم کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ وکٹ کیپر رام دین کے تئیس رنز بھی ویسٹ انڈیز کو شرمناک شکست سے نہ بچا سکے۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment