Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

ضلعی عدالتوں نے نیشنل جوڈیشل پالیسی اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری

March 2nd, 2010 by Editor · No Comments;  

بدقسمتی سے عدلیہ کو ایک ادارے کے طورپر پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیاگ یا

پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح عدلیہ کے سا تھ کھڑی ہے جس میں میڈیا نے بھی بہت اہم کردارادا کیا

چیف جسٹس آف پاکستان کا پشاور کی ضلعی عدلیہ سے خطاب

پشاور۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ ضلعی عدالتوں نے نیشنل جوڈیشل پالیسی اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی ہے۔ ڈسٹرکٹ عدلیہ کی مثال ادارے کیلئے ریڑھ کی ہڈی جیسا ہے۔ پاکستان میں عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں ڈسٹرکٹ عدلیہ کا بہت اہم رول ہے کیونکہ پچانوے فیصد مقدمات ضلعی لیول نمٹائے جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے افسران سے خطاب کے دوران کیا انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے عدلیہ کو ایک ادارے کے طورپر پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیاگیا لیکن پچھلے دو سال کی انتھک محنت اور جستجو کے بعد آج عدلیہ ایک مضبوط ادارے کے طورپر ابھر آئی ہے اور ملک میں آئین اور قانون کا بول بالا ہے انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح عدلیہ کے سا تھ کھڑی ہے جس میں میڈیا نے بھی بہت اہم کردارادا کیا اور خدا کے فضل و کرم سے آج عدلیہ کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا انہوں نے کہاکہ عدلیہ کو اپنی جدوجہد تیز کرنا ہو گی تاکہ لوگوں کو آسان اور فوری انصاف فراہم کیا جا سکے انہوں نے جوڈیشل افسران پر زور دیا کہ انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سولہ کروڑ عوام میں سے ان کو انصاف کیلئے چناہے اور انصاف ایسا ہونا چاہیے کہ دونوں فریقین کو محسوس ہو سکے نیشنل جوڈیشل پالیسی کے نفاذ میں ڈسٹرکٹ عدلیہ کے کردار کو سراہتے ہئے چیف جسٹس ، جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ اس پالیسی کے نفاذ میں ماتحت عدلیہنے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن یہ منزل نہیں ، منزل اس وقت ملے گی جب ہم اس نظام کو آگے لے کر آئندہ نسلوں کو منتقل کریں گے انہوں نے کہاکہ وہ ماتحت عدلیہ کیلئے سروس کنڈیشنز کی بہتری کیلئے بھی بھرپور اقدامات کریں گے ۔ بعد ازاں ججز کی طرف سے مختلف سوالات کا جوابات دیتے ہوئے چیف جسٹس نے ججز کو ہدایت کی کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کریں اور نچلی سطح پر جو مقدمات دس دس سال سے زیر التواء ہیں اسے جوڈیشل پالیسی کے تحت جلد از جلد نمٹا دیں انہوں نے کہاکہ طویل المعیاد مقدمات عدلیہ کیلئے باعث شرمندگی ہیں قبل ازیں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز افضل خان نے اپنے استقبالیہ کلمات میں چیف جسٹس کا پشاور آمد پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور ان کو نیشنل جوڈیشل پالیسی پر مکمل عملدر آمد کی یقین دہانی کرائی

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو