Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

بھارت کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔سید علی گیلانی

March 5th, 2010 by awais · No Comments;  

ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن مسئلے کا واحد سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا
بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی ٹیلی فون پرثناء نیوز سے خصوصی بات چیت

اسلام آباد ‘ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے واضح کیا ہے کہمسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میرے اصولی موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم مذاکرات سے انکاری نہیں لیکن جب تک بھارت جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ا سوقت تک اس سے مذاکرات ممکن نہیں ۔ مسئلے کا واحد حل سہ فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔بامقصد مذاکرات کیلئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا۔ بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو رہا کرنا پڑے گا۔ نئی دہلی سے ٹیلی فون پر’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب تک بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر نے کو تیار نہیں تو ایسے حالات میںبھارت سے مذاکرات کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں مذاکرات سے قبل بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر سے فوج کا مکمل انخلاء اور وہاں پر رائج کالے قوانین کا خاتمہ کر نا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میںبے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ بھارت سے اسی وقت مذاکرات ممکن ہیں جب بھارت کی حکومت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے بھارت نے کشمیریوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کو قتل کر نا بھارتی فوج کا وطیرہ بن چکا ہے ایسے حالات میں بھارت سے مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی موثر پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی کبھی حمایت نہیں کی بلکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کے پاکستان ،بھارت اور کشمیری عوام تین بنیادی فریق ہیں۔ اس لئے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با مقصد مذاکرات کے لئے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدر آمد کا واضح لفظوں میں اعلان کر نا ہو گا جن کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کا موقف وہی ہے جو پہلے تھا اس میں تبدیلی یا انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ دریں اثناء نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس امر کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حل ہونا ابھی باقی ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیئے تاکہ 62 سالہ متنازعہ پرامن انداز سے حل کیا جا سکے اور جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے ۔چیئرمین حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان اور کشمیری قیادت کو عالمی برادری کے زیر نگرانی بامعنی ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کروائے جائیں تو اس مسئلہ کے حل کی امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سات لاکھ افواج کو ریاست سے واپس بلائے اور مقبوضہ ریاست کے اندر کالے قوانین کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی پامالی کو بند کرنے اور جیلوں کے اندر پڑے بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرانے کے لیے جدوجہد کی ہے سید علی گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کے اندر کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے اورجنوبی ایشیا ء کے خطے کے اندر ، امن خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار اداکریں ۔ تاکہ اس خطہ کے اندر رہنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی معاشی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات وقت کا ضیاع اور بے مقصد ریہرسل ہے ۔ کیونکہ دونوں ممالک چھ دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کرتے رہے ہیں جس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو