سیاسی عمل کو غیر مستحکم کرنے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی صحافیوں سے گفتگو
سرائے عالمگیر۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ جمہوریت ملک میں بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوئی اسے سازشوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ تمام ریاستی ستونوں کا احترام پیپلز پارٹی کی بنیادی حکمت عملی میں شامل ہے ۔ قیادت و کارکنوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے ماضی میں بھی قربانیاں دیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہی ریاستی ستونوں کے درمیان مشاورت کے مقصد اور تعمیر ی عملی کو فروغ دیا ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے اور دستور پاکستان میں بھی واضح ہے کہ مسائل و مشکلات گفت و شنید سے حل کیے جائیں ۔انھوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے جس سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ انہیں شہید قائد ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو سے ورثہ میں ملی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھٹو ازم کے وارث ہیں اور شہید قائد کے مشن کے آگے لے کر بڑھ رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار قمر زمان کائرہ نے سرائے عالمگیر میں میاں طاہر اقبال کی رہائش گاہ پر صحافیوں اور معززین علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر ہم ایوانوں میں پہنچے ۔ انھوں نے کہا کہ پی پی پی کی حکومت وطن عزیز اور عوام کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہے ۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے مفاہمتی پالیسی اپناتے ہوئے اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے ۔ سیاسی عمل کو غیر مستحکم کرنے والے لوگ ملک وقوم کے خیر خواہ نہیں منتخب عوامی حکومت کے خلاف سازشیں کرنے والے سازشی عناصر اپنی موت آپ مرجائیں گے ۔ موجودہ منتخب حکومت انشاء اﷲ اپنی موجودہ آئینی مدت پورا کرے گی بلکہ عوامی حمایت سے مستقبل بھی ہمارا ہو گا ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جمہوریت ملک میں بڑی قربانیوں کے بعد بحال ہوئی اسے سازشوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی پی پی ملک کے آئین کے محافظ ہے اس پر آنچ نہیں دے گی ۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین میں رہتے ہوئے تمام امور انجام دے رہی ہے جب تمام ادارے اپنی حدود میں مقید ہوں تو اداروں کے درمیان تصادم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔qa….nn….ik



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment