برکلے ‘ سگریٹ کے دھویں کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارنے والے غیر سگریٹ نوش افراد کے بعد ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ کے دھویں کے ذرات یا بچ جانے والے کیمیائی مادے جو چیزوں میں جذب ہو جاتے ہیں ان کے اندر بھی کینسر کا سبب بننے والے اجزاء ہوتے ہیں ۔ لیبارٹری تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ کا دھواں کمرے میں موجود فرنیچر ‘ کپڑوں ‘ پردوں اور دیگر اشیاء پر تہہ کی شکل میں جم جاتا ہے اور کافی عرصہ تک اس کے زہریلے اثرات اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں ۔ اس خطرے کو تھرڈ ہینڈ سموک کا نام دیا گیا ہے ۔ تحقیق کاروں نے تجویز دی ہے کہ بند مقامات گھروں اور دفتروں میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ نکوٹین اور گھر کے اندر موجود آلودگی نانٹرس ایسڈ مل کر خطرناک قسم کے کیمیکلز پیدا کرتے ہیں ۔ ان کیمیکلز کو ٹوبیکو سپیسفک نائٹرو سائنز کہتے ہیں ۔ جو گیس سے جلنے والے چولہوں اور کار کے ایگزاسٹ سے خارج ہونے والی عام آلودگی سے جنم لیتے ہیں
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





1 response so far ↓
1 شاہد مسعود احمد // Mar 6, 2010 at 5:49 am
دم مارو دم مٹ جائے غم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب چرسی پوڈری اور سموکر کبھی نہیںمانیںگئے کہ سیگرٹ کا کوئی نقصان ہے وہ تو ثبوت کے طور پر کہیں گئے کہ اگر اتنا ھی نقصان ہوتا تو ھم مر نہ جاتے دیکھو کہ میں تو ۔ ۔ ۔دس۔ ۔ ۔بیس ۔ ۔ ۔ تیس سالوں سے سیگرٹ پی رھا ھوں مجھے تو کچھ نہیں ھوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان کے لیے تو حبیب جالب نے کہا تھاکہ
اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نیں جاتے
You must log in to post a comment.