ہلاک ہونے والوں میں 850 عسکریت پسند اور ایک تہائی تعداد سویلین باشندوں پر مشتمل تھی
ڈرون مہم کی وجہ سے القاعدہ نئے لوگوں کو کھلے میدانوں کے بجائے عمارتوں کے اندر تربیت دے رہی ہے‘ امریکی ادارے کی رپورٹ
واشنگٹن‘ ایک امریکی ادارے’’ نیو امریکن فاؤنڈیشن‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں 6 سالوں کے دوران ڈرون حملوں سے1210 افراد مارے گئے جبکہ امریکہ کی طرف سے ہونے والے ڈرون حملوں میں اضافہ سے شدت پسندوں میں کمی ہوئی ہے۔ واشنگٹن میں قائم نیو امریکن فاؤنڈیشن کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں میں اضافے سے شدت پسندوں میں کمی ہوئی ہے۔ لیکن تجزیہ کار کے نزدیک ان حملوں سے باغیوں کو بم بنانے والوں کو تربیت دینے یا مغربی ملکو ں کے اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ گذشتہ سال کے شروع میں صدر باراک اوباما کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بغیر پائلٹ کے جہازوں کے حملوں میں ،جنھیں ڈرون کہا جاتا ہے ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2009ء میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون کے 51 حملے ہوئے جب کہ جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے پورے آٹھ برسوں میں کل 45 حملے ہوئے تھے۔ اس تحقیقی مطالعے میں 6 برس کے عرصے میں بغیر پائلٹ کے جہازوں سے کیے جانے والے 114 حملوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں 1210 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 850 عسکریت پسند تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں کی ایک تہائی تعداد سویلین باشندوں پر مشتمل تھی۔ سی آئی اے کے ڈرون پروگرام میں تمامتر توجہ پاکستانی کے قبائلی علاقے پر ہے جہاں حکومت پاکستان کا قانون نہیں چلتا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 18 مہینوں سے جاری ڈرون حملوں کی مہم کے بعد پاکستان کے بہت سے عسکریت پسند افغانستان کی سرحد کے نزدیک اپنے محفوظ ٹھکانوں سے نکل کر ملک کے کم خطرناک علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈرون مہم کی وجہ سے القاعدہ نے اپنے آپریشن کی مرکزیت ختم کر دی ہے اور نئے لوگوں کو کھلے میدانوں کے بجائے عمارتوں کے اندر تربیت دی جا رہی ہے۔ اپنے پیغامات کی ترسیل کے لیے اب یہ دہشت گرد گروپ الیکٹرانک ذریعے استعمال نہیں کرتا کیوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کا سراغ لگا سکتی ہیں۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment