ریاض ‘ ترکی نے کہا ہے کہ وہ اپنا سفیر واپس واشنگٹن بھجوانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ترکی نے امریکی کانگریسی پینل کی جانب سے پہلی جنگ عظیم میں آرمینائی باشندوں کی ہلاکت کو قتل عام قرار دیئے جانے کے بعد احتجاجاً واشنگٹن سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے، جو ان دنوں شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز فار سروس ٹو اسلام کی وصولی کیلئے ریاض میں موجود ہیں اپنی ایک بات چیت میں امریکی کانگریس کے اقدام کو ’پرمذاق شعبدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تمام کارروائی کے پیچھے یہودی لابی کار فرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا میں آرمینائی باشندوں کی ہلاکت کے بارے میں خیالات میں تبدیلی نہیں لائی جاتی تب تک ترکی اپنا سفیر امریکا واپس بھجوانے کو تیار نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاملات میں نہیں الجھنا چاہیے۔ ایران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترک وزیراعظم نے کہا کہ ایران پر مزید پابندی لگانے سے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر پہلے اور دوسرے مرحلے کی پابندیاں عائد کرنے سے کوئی فوائد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل اور شام آپس میں مذاکرات کیلئے ترکی کی ثالثی پر آمادہ ہو جائیں گے جس سے دونوں کے درمیان مذاکرات کا پندرہ ماہ سے جاری جمود ٹوٹ سکتا ہے۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment