سپریم کورٹ نے سمندری آلودگی اور صنعتی فضلہ کیس میں حکام کو طلب کر لیا
نیٹوٹینکروں سمیت کسی کو غیر قانونی پارکنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ‘چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
کراچی ۔چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے سمندری آلودگی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کرلیا ہے۔جب کہ غیر قانونی پارکنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ نیٹوٹینکروں سمیت کسی کو غیر قانونی پارکنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سمندری آلودگی اور صنعتی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہ لگائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ بڑی بڑی صنعتیں لگائی گئی ہیں لیکن فضلے کی ٹریٹمنٹ کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں ڈی ایچ اے، کے پی ٹی، سائٹ ایسوسی ایشن کے سربراہوں کو طلب کرلیا ہے۔اس سے قبل سائیٹ میں صنعتی فضلے سے ایک بچے کے جاں بحق ہونے اور دیگر کے زخمی ہونے کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں سائیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے کہا کہ پیسے دے کر بچے کی لاش خرید لی جاتی ہے۔ جبکہ مجبور لوگ سمجھوتہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بچے کے والدین اور سائیٹ ایسوسی ایشن کے حکام کو طلب کیا ہے۔جب کہ شیرین جناح آیل ٹینکرز کی غیر قانونی پارکنگ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیٹوٹینکروں سمیت کسی کو غیر قانونی پارکنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ درخواست کالونی کی رہایشی شگفتہ بانو نے دائر کی تھی۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment