Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

کرکٹ کے بعد ہاکی میں بھی بدترین شکست اور ناکامی کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی برطرف کر دی گئی

March 11th, 2010 by Editor · No Comments;  

چیف سلیکٹر حسن سردار از خود مستعفی، فیصلہ بطور صدر لیا ، ایشیاء کپ حاصل نہ کرسکے تو خود بھی مستعفی ہونے کے بارے سوچوں گا ۔ قاسم ضیا ء

لاہور۔ورلڈ کپ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کی بد ترین کارکردگی پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی کو فارغ کر دیا جبکہ ٹیم کے چیف سلیکٹر حسن سردار نے اس اعلان سے پہلے ہی اپنا استعفی فیڈریشن کے صدر کو پیش کر دیا ۔ فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ بدستور اپنے عہدہ پر کام کرتے رہیں گے جبکہ قاسم ضیاء نے کہا کہ ایشیئن کپ میں ناکامی کا سامنا ہوا تو خود بھی مستعفی ہونے کے بارے میں سوچوں گا ۔ تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم میں ایک روز قبل بڑے اپریشن کلین اپ کے بعد ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی بارہ ٹیموں میں بارھویں نمبر پر آنے پر قومی ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کو برطرف کر دیا گیا جس کی تصدیق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء نے کر دی ہے ۔ قاسم ضیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ بطور صدر فیڈریشن کیا ہے اوریہ فیصلہ پاکستان ٹیم کے کینیڈا جس نے کوئی میچ نہیں جیتا تھا سے ہارنے کے فورا بعد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آصف باجوہ کو بحیثیت ٹیم مینجر برطرف کر دیا گیا ہے تا ہم وہ ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہیں گے اس سوال پر کہ کیا وہ خود بھی اس ناکامی پر مستعفیک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ جب میں فیڈریشن کا صدر بنا تو سب سے پہلی پریس کانفرنس میں ہی ایشیاء کپ کے حصول کو اپنی منزل قرار دیا تھا اگر ہاکی ٹیم یہ کپ حاصل نہ کر سکی تو استعفے کے بارے میں سوچوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی ناکام کی رپورٹ آنے پر سینئر کھلاڑیوں کے حکوالے سے بھی اہم فیصلے لئے جا سکتے ہیں ۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو