بے مقصد مذاکرات میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ‘ بھارت سنجیدگی سے مذاکرات شروع کرے
مسئلہ کشمیر طاقت کی بجائے اصولوں اور کشمیری خواہشات کے مطابق ہی حل ہو سکتا ہے
پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا بیان
اسلام آباد۔ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کشمیر اور پانی کے مسئلے کو سرفہرست ہونا چاہئے ۔ 2004 ء سے بھارت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کی گئی ۔ گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے بھاگنے کے لئے کوئی بہانہ تلاش کر لیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد تنازعات کو حل کرنا ہوتا ہے لیکن مذاکرات برائے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ۔ مذاکرات کو نتیجہ خیز ہونا چاہئے اس لئے بے مقصد مذاکرات میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے اور دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ مذاکرات شرواع کرنے چاہئیں تاکہ 62 سال پرانے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جا سکے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا بھارت کے ساتھ پانی کے مسئلہ پر بھی بات کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کا یہ بیان کہ پاکستان اپنے حصے سے زیادہ پانی استعمال کر رہا ہے حقائق کو چھپانے کی کوشش ہے ۔ سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بھارت چناب ‘ جہلم اور سندھ کا پانی استعمال نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی اقدام اچانک نہیں اٹھایا گیا بلکہ یہ سوچی سمجھی سازش ہے ۔ بھارتی وزیر چکروتی نے 2003 ء میں کہا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی روکے گا اور پاکستان پانی کے لئے چلائے گا ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے پانی روک رہا ہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گا ۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ بلکہ مسئلہ کشمیر کو اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے ۔


