Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

اداروں میں کھانے پینے والا حساب کتاب شروع ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

March 17th, 2010 by awais · No Comments;  

جعلی اسلحہ لائسنسوں کے اجراء حوالے سے مقدمات کی تحقیقات کا سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو کرنے کا حکم دیتے ہوئے 25 مارچ کو عدالت میں طلب کر لیا
وزارت داخلہ غیر متعلقہ افراد کو ایسے معاملات تک رسائی کیوں دیتی ہے
اداروں میں کھانے پینے والا حساب کتاب شروع ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس

اسلام آباد ‘ سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے جعلی اسلحہ لائسنسوں کے اجراء حوالے سے مقدمات کی تحقیقات کا سیکرٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو کرنے کا حکم دیتے ہوئے 25 مارچ کو عدالت میں طلب کر لیا ۔ بدھ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس چوہدری اعجاز احمد اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل تین رکنی بنچ نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے جعلی لائسنسوں کے مقدمہ کی سماعت کی ۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ غیر متعلقہ افراد کو ایسے معاملات تک رسائی کیوں دیتی ہے ۔ جعلی لائسنس جاری ہونے سے حکومت کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ خرد برد کے معاملات میں پیسہ تو عوام کی جیبوں سے جاتا ہے ۔ اداروں میں کھانے پینے والا حساب کتاب شروع ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو شہزاد احمد کے وکیل جسٹس ( ر ) طارق محمود ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سال 2006 ء سے اب تک جتنے لائسنس بھی جاری ہوئے سب ممبران قومی اسمبلی وفاقی وزراء اور سینیٹرز کے احکامات پر جاری کئے گئے ہیں اور ہر لائسنس کی فیس 5 ہزار روپے وصول کی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ 35 ہزار لائسنس جاری کئے گئے ہیں لیکن وزارت داخلہ کہتی ہے کہ ان میں سے سب جعلی نہیں ہیں ۔ جسٹس طارق محمود ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے سیکشن افسران عبدالحکیم ہکڑو ‘ عی عبداللہ خالد اور ملک افتخار اس معاملے میں ملوث ہیں ۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل علیم عباسی سے استفسار کیا کہ اس معاملے سے حکومت کو کتنا نقصان ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سات لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ شبیر احمد سے استفسار کیا کہ اب تک ان جعلی لائسنسوں میں سے کتنے لائسنس منسوخ کئے گئے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لائسنس بھی منسوخ نہیں کیا گیا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کو خود لائسنس منسوخ کرنا چاہئیں ۔ عدالت اس بارے ہدایات کیوں جاری کرے ۔ آپ کے اقدامات سیس لگتا ہے کہ آپ تمام لوگ اس میں ملوث ہیں اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ وزارت کے سیکشن افسران اس معاملہ میں ملوث ہیں آپ نے کام دلالوں کے حوالے کر رکھا ہے ۔ وزارت داخلہ کیسے چل رہی ہے کہ جوائنٹ سیکرٹری شبیر احمد نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے مطابق 32148 لائسنس جاری کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے کام ہو رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جب عدالت کوئی حکم دیتی ہے تو شور بڑ جاتا ہے کہ عدالت مداخلت کر رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ عدالت کے بازو توڑ دیں گے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے اس لئے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے اس کی تحقیقات کریں ۔ اور کسی ملوث شخص کو رعایت نہیں دی جانی چاہئے ۔ ایک تحقیقاتی افسر اپنے افسران کو گرفتار نہیں کر سکتا تو ہو کیسے تحقیقات کرے گا ۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ کسی اچھے افسر کو ایف آئی اے میں رہنے نہیں دیا جاتا ۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com