مقبوضہ بیت المقدس ‘ مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لئے 1600 مکان تعمیر کرنے کا اسرائیلی اعلان اور مغربی کنارے کی 2 مساجد کو اسرائیلی قومی ورثے میں شامل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس الخلیم غذا شہر اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے 40 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ۔ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کی اور ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کی ۔ غذا شہر میں حماس تنظیم کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے ایک اجلاس میں کہا کہ فلسطینی ہر قیمت پر مقبوضہ بیت المقدس کا دفاع کریں گے ۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ شہید کرنا چاہتا ہے جس کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اسرائیلی منصوبوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر مسجداقصیٰ کے بارے میں امریکہ کے خصوصی نمائندے جارج مشعل نے اسرائیل کا دورہ ملتوی کر دیا ہے ۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات کی مخالفت کے باوجود امریکہ نے اسرائیل کی سلامتی کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لئے مکانوں کی تعمیر سے اسرائیلی منصوبے پر اختلاف کے باوجود اسرائیلی سیکورٹی کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار کا رکن ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کو اسرائیلی منصوبون پر شدید تشویش لاحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گروپ چار نے اپنے حالیہ اجلاس میں اسرائیلی منصوبوں سے خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلی حکومت کے اس اشتعال انگیز اقدامات کی مذمت کرتے ہیں ۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے جو ان دنوں عرب ملکوں کے دورے پر ہی ۔ بیروت میں لبنان کے صدر مائیکل سلیمان اور سپیکر نبی بیری سے ملاقات کی جس میں خطے کی تازہ ترین صورت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔


