کراچی ۔گرمی کیساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھتاجارہا ہے ۔ کئی گھنٹے بجلی کے تعطل نے معمولات زندگی شدید متاثر کئے ہیں اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پیپکو کاکہنا ہے کہ ملک میں چار ہزار پانچ سو میگا واٹ کا شارٹ فال ہے ۔ وزیراعظم نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔ کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آئندہ ہفتے شروع ہونے والے میٹرک کے امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں تین لاکھ طلبہ مشکل کا شکار ہیں۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں کے لوگ بھی لوڈشیڈنگ کے کرب سے دوچار ہیں۔ پنجاب میں لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ ،گجرات اور بھلوال سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ پشاورسمیت صوبہ سرحد میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ پشاورمیں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ چودہ گھنٹے سے تجاوزکرگیا جس کی وجہ سے میٹرک کے امتحانات دینے والے طلبہ اورمریض مشکلات سے دوچارہیں۔ ایبٹ آباد اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اڑتالیس گھنٹوں کے دوران چھتیس گھنٹے بجلی بند رہی ۔ کوئٹہ اور چمن سمیت بلوچستان کے شہری بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں اٹھارہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔


